اصحاب احمد (جلد 3) — Page 34
۳۴ عبدالستار شاہ صاحب کے پاس بمقام رعیہ ضلع سیالکوٹ بھجوائے اور ڈاکٹر صاحب کی تسلی بخش رپورٹ آنے پر بابو صاحب سے دوبارہ اجازت حاصل کر کے تین صد روپیہ مہر پر نکاح پڑھ دیا۔بابو صاحب نے نہایت سادگی سے حضرت خلیفہ اول کے گھر میں ہی ہمشیرہ کا رخصتانہ کر دیا۔حمید بھاگ ناڑی زلزلہ کی زد میں جن دنوں آپ قادیان ہمشیرہ فاطمہ صاحبہ کی شادی کے لئے آئے ہوئے تھے۔اس عرصہ کے دوران کا یہ واقعہ بھی آپ تحریر کرتے ہیں کہ کوئٹہ والے منشی نور محمد صاحب سے قادیان میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے سنایا۔ایک قصاب نے احمدیت قبول کی تو علماء کے فتویٰ کے مطابق لوگوں نے ان کا مقاطعہ کر دیا جس سے اس کی دکان کا کام بند ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواب میں اس قصاب دوست کو نظر آئے۔اور فرمایا میاں! بھاگ ناڑی پر کدھر سے حملہ کروں ؟ منشی صاحب نے جو بھاگ ناڑی کے مجسٹریٹ کے ریڈر تھے زبانی یا اشتہار کے ذریعہ اعلان کر دیا کہ عنقریب یہاں تباہی آئے گی۔چنانچہ زلزلہ سے بھاگ ناڑی ایک تہائی آبادی سمیت تباہ ہو گیا۔سرکاری بنگلہ، ریلوے سٹیشن گر گیا۔ریلوے لائن پر شگاف پڑ گئے۔ریل گاڑی کی آمد ورفت رُک گئی منشی صاحب نے اعلانیہ کہا کہ صداقت احمدیت ظاہر ہوئی ہے۔علماء بلوچستان نے حکومت کے پاس شکایت کی کہ قدرتی طور پر زلزلہ سے تباہی آنے پر مرزائی نور محمد کہتا ہے کہ ہماری پیشگوئی پوری ہوئی چونکہ بلوچستان میں پولیٹیکل قانون جاری تھا۔اس لئے سرکاری حکم سے منشی صاحب اور ایک احمدی چپڑاسی نورالدین کو ملازمت سے موقوف کر دیا گیا۔اور چوبیس گھنٹے کے اندر بلوچستان سے نکال دیا گیا۔منشی صاحب نے قادیان آ کر حضرت خلیفہ اول سے ماجرا کہہ سنایا۔آپ اس بات سے خوش نہ ہوئے اور فرمایا کہ بددعا کیوں کی؟ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے واسطے بد دعا نہیں کرنی چاہئے تھی۔: حضرت ڈاکٹر صاحب کے مختصر سوانح کے لیئے دیکھئے تابعین اصحاب احمد جلد سوم (یعنی سیرۃ اتم طاہر ) منشی صاحب صحابی تھے۔گلگت میں بھی سرکاری ملازم رہے ہیں۔قادیان ہجرت کر آئے تھے