اصحاب احمد (جلد 3) — Page 280
۲۸۰ نے جس کا عارضی طور پر لاہور مرکز مقرر کیا گیا تھا۔یہ مناسب سمجھا کہ جب تک آمد کی خاطر خواہ صورت نہ نکلے احباب جماعت سے آنریری خدمات حاصل کی جائیں تا ایک طرف حضور کی ہدایات کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور دوسری طرف احباب جماعت کو بھی ثواب کا موقع مل جائے۔چنانچہ ان ایام میں کئی احباب نے اپنے آپ کو پیش کیا۔صدرا جمن احمد یہ قادیان کے لئے آمد کا انتظام کرنا آج کل کے حالات کے ماتحت خطرہ سے خالی نہیں۔اس کی آمداب صرف انہی درویشوں کے چندوں کی رہ گئی ہے جن کو تخت گاہِ رسول کی حفاظت کی سعادت حاصل ہے اور جن کی تعداد ۳۱۳ کے لگ بھگ 66 رہتی ہے۔(۵): جماعت احمدیہ کے اکسٹھویں سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۵۱ء پر ربوہ کے بے آب و گیاہ میدان میں ممالک غیر اور پاکستان کے تیس ہزار افراد کا عظیم الشان اجتماع ہوا۔اور احباب نے علم و عرفان کے انمول موتیوں سے اپنے دامن بھر لئے۔انتظام کے تعلق میں مرقوم ہے: یہاں یہ بھی ذکر ہے کہ بعض احباب نے اپنے کاروبار بند کر کے یا رخصت لے کر کام کیا ان میں ذیل کے اسماء درج ہیں۔(۱) چوہدری فضل احمد صاحب کراچی (۲) چوہدری لطیف احمد صاحب کراچی ( جو چند سال قبل ایک ہوائی حادثہ میں جاں بحق ہو گئے تھے )۔(۳) قریشی محمد طفیل صاحب اختر کراچی۔(۴) شیخ محبوب الہی صاحب لاہور (اصل متوطن کشمیر )۔(۵) بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر لاہور ( حضرت موصوف اکتوبر ۱۹۶۹ء میں وفات پاگئے رضی اللہ عنہ )۔(۶) عبد الحمید صاحب عارف لاہور۔(۷) چوہدری عبدالرحمن صاحب حال مقیم لندن خلف حضرت چوہدری غلام محمد صاحب مینیجر نصرت گرلز ہائی سکول ( قادیان)۔: ص ۲۱۔صدر بجٹ کمیٹی ناظر بیت المال خاں صاحب منشی برکت علی صاحب اور دیگر ارکان محاسب مرزا عبد الغنی صاحب مرحوم و چوہدری عزیز احمد صاحب ( حال ناظر بیت المال خرج ربوہ ) و آڈیٹر سید محمود عالم صاحب مرحوم کی طرف سے یہ میزانیہ شائع ہوا۔(ص۶)