اصحاب احمد (جلد 3) — Page 272
۲۷۲ قادیان آرہے ہیں۔اس لئے نہ تو میں ان کو الوداع کہہ سکتا ہوں۔اور نہ جدائی کے متعلق وہ جذبات میرے اندر پیدا ہو سکتے ہیں۔جو آپ لوگوں کے دلوں میں ہیں میرے اندر تو اس وقت خوشی کے جذبات ہیں۔اور باوجود آپ کے رنج کے مجھے خوش ہونا چاہیئے لیکن چونکہ دوستوں کی خواہش ہے اس لئے کچھ بیان کرتا ہوں۔وو پہلی بات ایڈریس کے ایک فقرہ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ لکھنے والے نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے لکھا ہے۔لیکن چونکہ وہ قابل اصلاح ہے اس لئے میرا فرض ہے کہ میں اس کی اصلاح کروں۔بلکہ اس سے پہلے بھی میری خواہش تھی کہ جب کبھی موقعہ ملے اس بات کی اصلاح کروں اب چونکہ ایسا موقعہ میسر آگیا ہے۔اس لئے میں اس کی اصلاح ضروری سمجھتا ہوں۔وہ فقرہ اس رنگ کا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور خلیفہ کی دعاؤں سے ایسا ہوا۔یعنی خدا کے فضل کے ساتھ خلیفہ کی دعاؤں کو شریک بنایا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کسی خدا کے بندے کو شریک کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ شرک ہے۔یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کی دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا۔لیکن جس فقرہ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں خلیفہ کی دعاؤں کو خدا کے فضل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ ہر کام خدا کے فضل کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس میں بھی بعض لوگوں نے اس قسم کے فقرے کہے تو آپ نے اصلاح فرما دی۔اور فرمایا۔اللہ کے ساتھ ہمارا ذکر مت کرو۔ہاں دعاؤں کے ساتھ خدا کا فضل نازل ہوتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ لکھنے والے کے دل میں یہ خیالات نہ تھے۔لیکن میرا بحیثیت خلیفہ فرض ہے کہ اس غلطی کی طرف توجہ دلاؤں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جدائی پر رنج ایک طبعی امر