اصحاب احمد (جلد 3) — Page 271
۲۷۱ صاحب کو جو ایک لمبی اور قابل تعریف ملا زمت کے بعد پنشن پر جارہے رہیں۔تالکٹورہ پارک میں ایک شان دار گارڈن پارٹی دی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے باوجود اپنی بے حد مصروفیتوں کے اس تقریب میں شمولیت فرمائی۔دونوں جماعتوں کے افراد کے علاوہ بہت سے معزز غیر احمدی اصحاب بھی مدعو تھے۔جماعت دہلی کا ایڈریس جناب با بو اکبر علی صاحب جنرل سیکرٹری نے پڑھا اور جماعت شملہ کی طرف سے بابو عبدالسلام صاحب نے پڑھ کر سنایا۔اور ایک نسخہ قرآن کریم جماعت کی طرف سے بطور تحفہ پیش کیا ہے۔جسے خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مبارک ہاتھوں سے خاں صاحب کو عطا فرمایا۔اس کے بعد خاں صاحب منشی برکت علی صاحب نے دونوں ایڈریسوں کا جواب دیا۔“ آخر میں حضرت اقدس نے ایک مختصر تقریر فرمائی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔فرمایا : قادیان میں اس قسم کی دعوتوں پر میں عموماً تقریر کیا کرتا ہوں کیونکہ وہاں میری حیثیت میزبان کی ہوتی ہے اور ہر جانے والے کو الوداع اور آنے والے کو خیر مقدم کہہ سکتا ہوں۔لیکن یہاں بوجہ مختصر قیام کے میں خود مہمان کی حیثیت رکھتا ہوں۔اس لئے میں نہیں سمجھتا میں کن جذبات کا اظہار کروں۔آپ لوگ خاں صاحب سے جدا ہورہے ہیں۔اور جدائی کو محسوس کر رہے ہیں۔لیکن آپ سے جدا ہو کر خاں صاحب میرے پاس : محترم بابوا کبر علی صاحب بعد میں قادیان ہجرت کر آئے تھے۔اور سٹار ہوزری در کس کو کامیاب طور پر انہوں نے چلایا بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔بابو عبد السلام صاحب یعنی حافظ عبد السلام صاحب اس وقت جماعت شملہ میں بعہدہ سیکرٹری تبلیغ کام کرتے تھے۔بعد میں ۴۳ ء تک امیر جماعت شملہ اور تقسیم ملک کے بعد ایک سال تک نائب امیر کراچی اور ۴۹ ء تک کراچی کے امیر جماعت رہے پھر مرکز ربوہ میں وکیل الا علی بھی رہے اس وقت وکیل المال ثانی ہیں۔