اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 270 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 270

۲۷۰ آخری روز سارے مجمع کا حضور سمیت فوٹو اتارا گیا۔اختتام درس پر محترم خاں صاحب نے حضور کی خدمت میں پنشن کے ارادہ کا ذکر کیا۔تو حضور نے فرمایا کہ آپ کی صحت اچھی ہے آپ کو اور ملازمت کرنی چاہیئے۔یہ ارشاد خواہ آپ کی بہتری کے لئے تھا یا جماعت اور سلسلہ کی بہتری کے لئے۔ہر صورت میں آپ کے لئے واجب اذعان و عمیل تھا۔سو آپ شملہ واپس چلے گئے۔وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ آپ کے ریٹائر ہو جانے کی خبر سُن کر ایک ہندو آپ کی جگہ لگنے کی کوشش کر رہا ہے۔کیونکہ آپ کی اسامی کے گریڈ میں اضافہ ہو گیا تھا۔لیکن جن افسروں سے خان صاحب کو ہمدردی اور مدد کی توقع تھی وہ رخصت پر تھے۔تا ہم آپ نے کوشش شروع کر دی اور حضور کی خدمت میں ہر روز ایک خط دعا کے لیئے لکھنے لگے۔آپ نے بالا افسر کو اس امر پر رضامند کر لیا کہ وہ ان افسران کی رخصت سے واپسی تک اس معاملہ کو التوا میں رکھے۔اسی اثناء میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آ گیا۔اور اس نے آپ کے کاغذات منگوائے۔وہ آپ کے کام سے کچھ واقف تھا۔گو اس سے آپ کی خاص واقفیت نہ تھی۔تاہم اس نے آپ کے معاملہ میں غیر معمولی دلچسپی لی۔اب خط کی بجائے بذریعہ تار آپ روزانہ حضور کی خدمت میں دعا کی درخواست کرنے لگے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالآخر آپ کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔یہ فیصلہ سُن کر آپ کے دفتر کے ایک ہندو نے برملا کہا کہ ہم جانتے تھے کہ آخر فیصلہ آپکے حق میں ہوگا۔کیونکہ آپ کا پیر بہت زبر دست ہے۔گویا حضور کا ارشاد بالآخر صداقت اسلام کا ایک نمایاں نشان بن گیا۔جماعت کی طرف سے پھر الوداعی تقریب ۱۹۳۲ء میں آپ کی وظیفہ یابی (پنشن) کے موقعہ پر بوجہ موسم سرما آپ کا دفتر دہلی میں تھا۔اور حضور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے وہاں تشریف لے گئے تھے ۲۸۔احباب کے اصرار پر حضور نے باوجود مصروفیت کے ایک تقریب میں شامل ہو کر خاں صاحب کو احباب کی طرف سے ایک بڑے سائز کا اردو اور فارسی کے پانچ تراجم والا قرآن شریف اپنے دست مبارک سے عطا کیا۔چنانچہ مرقوم ہے: 4 مارچ جماعت احمد یہ شملہ ودہلی نے جناب خاں صاحب منشی برکت علی