اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 259 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 259

۲۵۹ ہماری کشتی سلامتی سے پار ہوئی۔بلکہ آپ کی لگا تا رسعی اور شبانہ روز کی دعاؤں کی برکت سے ہماری جماعت کیا بلحاظ مال اور کیا بلحاظ حسن عقیدت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اول درجہ کی جماعتوں میں شمار ہوتی رہی۔اور حضرت امام ایدہ اللہ بنصرہ کی نظروں میں ایک ممتاز جماعت ٹھہری۔" آپ نے جماعت کے لئے نہایت قیمتی اور بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔اور ہم در حقیقت اللہ تعالیٰ کے ناشکر گزار بندے ہوں گے۔اگر ہم آپ کی خدمات حسنہ کا گھلے گھلے الفاظ میں اعتراف نہ کریں۔کیونکہ دو جہان کے سردار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَنْ لَّمُ يَشْكُرُ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرُ الله ، یعنی جو آدمی خدا کے بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کا عبد مشکور نہیں بن سکتا۔" آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ انتظامی قابلیت عطا فرمائی ہے۔اور آپ نے اس خدا داد قابلیت کو جس احسن طریق سے استعمال کیا ہے۔اس پر ہم جس قدر فخر کر سکیں بجا ہے۔خدا کرے آپ کا جانشین بھی ان ہی صفات حسنہ کا جامع ہو جو کہ آپ کی ذات بابرکات میں ہم پاتے ہیں۔آپ نے اپنے زمانہ امارت میں ہر ایک بھائی کی رائے کا خواہ وہ کس قدر بھی غریب کیوں نہ ہو اور اس کی رائے کیسی ہی کیوں نہ ہو۔احترام فرمایا ہے۔اور جماعت کا نظام حتی الامکان بگڑنے نہیں دیا۔جماعت کا بڑے سے بڑا اور غریب سے غریب فرد آپ کی نظر میں یکساں ممتاز اور واجب الاحترام رہا ہے۔آپ نے کسی کو ناراضگی کا کبھی موقعہ نہیں دیا۔ہر ایک بھائی کے ساتھ آپ نے ہمدردی اور اخوت کا ثبوت دیا۔اور اپنی قیمتی نصائح سے ہر ایک کو مستفید کیا اور ہر ایک کو بشری لغزشوں سے بچانے کے لئے کوشش کی۔آپ نے ہر ایک موقع پر جماعت کو تاکید کی کہ مرکز سے وابستہ رہے۔کیونکہ مرکز سے انقطاع ہی