اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 257 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 257

۲۵۷ و مغربی افریقہ ) وغیرھم کی تقریریں ہوئیں۔اسی جلسہ سالانہ میں سیرۃ النبی کے مضمون پر بطور انعام ایک طلائی تمغہ اور گھڑی خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے رائے بہادر لالہ پارس داس صاحب رئیس دہلی کو پیش کی۔۳۶ے (۱۱) جماعت شملہ کی نمائندگی میں آپ نے شوری میں ۱۹۲۸ء، ۱۹۳۰ء اور ۱۹۳۲ء میں شرکت کی۔۱۹۳۰ ء کی مشاورت میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آپ کو کمیٹی کا رکن مقرر فرمایا۔تا مختلف سرکاری دفاتر کے طریق کو دیکھ کر مشورہ دیں کہ محاسب اور آڈیٹر کا طریق کار کیا ہونا چاہیئے اور ناظر بیت المال کے ساتھ ان کا تعلق کہاں تک اور کس رنگ میں ہونا چاہیئے۔دیگر ارکان کمیشن بابو محمد امیر صاحب مرحوم را ولپنڈی اور مرزا محمد صادق صاحب اکاوٹنٹ سیالکوٹ تھے ہیں۔جماعت احمدیہ شملہ کا ایڈریس خانصاحب منشی برکت علی صاحب کی خدمت میں اس عنوان کے تحت مرقوم ہے: چونکہ جناب خانصاحب منشی برکت علی صاحب امیر جماعت احمدیہ شملہ گورنمنٹ کی طویل اور قابلِ تعریف ملازمت کے بعد ریٹائر ہوکر شملہ چھوڑنے والے تھے۔اس لئے جماعت احمد یہ شملہ نے جس کی بنیا د خاں صاحب ہی کے ہاتھوں پڑی اور جس نے ان کی رہنمائی اور سر پرستی میں قابل ذکر ترقی کی۔ان کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔اور نقرئی گھڑی بطور تحفہ دی۔خاں صاحب نے ایڈریس کا بہت موزوں جواب دیا۔ذیل : رپورٹ مشاورت ۱۹۲۸ء (صفحہ ۴۱ وصفحہ ۵) رپورٹ مشاورت ۱۹۳۰ء (ص۳۰) رپورٹ سالانہ ۳۱ - ۱۹۳۰ء (ص ۲۱۳) ور پورٹ ۱۹۳۲ء (ص ۱۱۱) اسمیں آپ رکن کمیٹی بیت المال تھے ( ص ۵۵) نیز الفضل ۲۴ مارچ ۱۹۳۲ء میں مرقوم ہے۔” خانصاحب بابو برکت علی صاحب آف شملہ اور بابو محمد امیر صاحب نے دفتر آڈیٹر اور محاسب کا معائنہ شروع کیا۔(زیر مدینہ اسیح)