اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 245 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 245

۲۴۵ (1) آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۷ء سے ۱۸۹۹ء کے عرصہ کی بات ہے کہ دفتر پی۔ڈبلیو۔ڈی یعنی بارک ماسٹری شملہ میں بتیس ہزار روپیہ کی لاٹری آئی جسکا شملہ میں بہت چرچا ہوا۔ہمیں بھی لالچ پیدا ہوا کہ ہم بھی لاٹری میں شرکت کریں میں نے اپنے چیف سپرنٹنڈنٹ کو جو انگریز تھا رقعہ لکھا کہ ہم اپنے دفتر میں FORTUNE فنڈ کھول دیں جس میں جو کلرک چاہے ماہوار آٹھ آنے دیگر شریک ہو جائے اور کچھ رقم جمع ہونے پر ہم لاٹری وغیرہ کے ٹکٹ خرید لیا کریں جہاں اس میں ہماری برانچ کے قریباً سارے کلرک جو ان دنوں چودہ پندرہ ہوں گے۔شریک ہو گئے۔پہلے تو چند سال کوئی قابل ذکر رقم نہ ملی۔۱۹۰۳ ء یا ۱۹۰۴ء میں ہمارے نام لاٹری آئی۔پہلے کلکتہ سے ہمیں ایک شخص نے تار دی کہ تمہارے نام فلاں گھوڑا ہے اور میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔تم مجھے اسی ہزار روپیہ دے دو اور میں یہ رقم پیشگی بنک میں تمہارے نام جمع کرا دیتا ہوں۔ہم نے مشورہ سے فیصلہ کیا کہ گھوڑا فروخت نہ کیا جائے بلکہ اسکی قیمت کا نصف دیا جائے اور اسے تار دیا کہ یہ منظور ہو تو چالیس ہزار روپیہ فوراً ہمارے نام پر جمع کرا دو۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کر دیا۔جب لاٹری نکلی تو اس کا نصف حصہ جو قریباً سوا لاکھ روپیہ تھا ہمیں ملا۔اور ہم میں سے ہر ایک کے حصہ میں قریباً ساڑھے سات ہزار روپیہ آیا۔میں نے خیال کیا کہ روپیہ تو آگیا ہے لیکن پتہ نہیں کہ اس کا اپنے استعمال میں لانا جائز بھی ہے یا نہیں۔سو میں قادیان آیا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو جن کی عمر اس وقت تیرہ چودہ سال تھی۔بلایا اور عرض کیا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پرائیویٹ طور پر دو تین باتیں کرنا چاہتا ہوں۔میری علیحدہ ملاقات کرا دیں۔چنانچہ آپ اندر گئے اور عرض کیا کہ فلاں شخص علیحدہ ملنا چاہتا ہے۔چنانچہ حضور نے اپنے پاس اوپر کمرہ میں بلوالیا۔میں نے تین باتیں دریافت کیں۔جن میں سے ایک لاٹری کے متعلق تھی اور تفصیل بالا بیان کر کے عرض کیا کہ غیر احمدی ہونے کی صورت میں ہم چندہ کر کے روپیہ جمع کرتے رہے اور اس سے لاٹری کا ٹکٹ خریدتے رہے۔اب لاٹری ہمارے نام آئی ہے۔مگر مجھے شبہ پڑ گیا کہ واللہ اعلم یہ جائز بھی ہے یا نہیں۔فرمایا۔یہ روپیہ تمہارے لئے جائز نہیں۔یہ تو جوا ہے۔آپ اس میں سے اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی