اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 244 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 244

۲۴۴ مالی خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے زمانہ میں جو جو کا ایک دانہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔بعد میں آنے والے اگر سونے کا پہاڑ بھی خرچ کریں گے۔تو جو کا دانہ خرچ کرنے والے کے ثواب کو نہیں پاسکیں گے۔اس کی تشریح ظاہر ہے۔ایک شخص پیاس سے پڑا تڑپ رہا ہے۔جو بھی ایسے وقت میں اسے چند گھونٹ پانی پلا کر اس کی جان بچائے گا۔اس کے نزدیک عام حالات میں اسے پانی کے چشمہ یا دریا پر پہنچانے والے سے یہ چند گھونٹ دینے والے کی قدر ہزار ہا گنا ہوگی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام احیاء اسلام کیلئے مبعوث ہوئے اس وقت والیان ریاست اور امراء تک اسلام کی خاطر ایک جبہ بھی خرچ نہیں کرتے تھے۔لیکن اپنے عیش و طرب اور لہو ولعب میں منہمک و مستغرق تھے اور اس پر اموال کو پانی کی طرح بہاتے تھے اور تو اور لغویات مثلاً بٹیر بازی۔شادی بیاہ پر آتش بازی وغیرہ فضولیات پر تفاخر کا اظہار کیا جاتا۔لیکن صرف اسلام ہی ایسا ٹیکس تھا۔جس پر خرچ کرنا ان کو موت احمر نظر آتی تھی۔چنانچہ حضور نے براہین احمدیہ جیسی عظیم الشان تالیف تائید اسلام میں طبع فرمائی لیکن دل کے اندھوں نے اپنے چند پیسوں کو انمول سمجھا اور اس کتاب کو جو خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو تیرہ سو سال میں بے نظیر نظر آئی حقیر سمجھا اور روی حالت میں کتب واپس کر کے اپنی رقوم واپس لیں اور ہمیشہ اعتراضات کرتے رہے۔اس وقت حضور کی توجہات اور برکات سے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی جماعت کو قائم کیا جو اسلام کے لئے مال و منال بھی فدا کریں۔چونکہ ہمیشہ ابتداء میں غرباء ہی انبیاء کو قبول کرتے ہیں۔اس لئے ان کی قربانیاں گو دوسروں کی نظر میں جو ان مومنین کو اراذلنا قرار دیتے ہیں حقیر ہوں اور کہا جائے کہ ان کا رب فقیر ہے جو ان سے چندے طلب کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور بظاہر حقیر نظر آنے والی قربانیاں دین کے قیام کے لئے مضبوط اساس کا حکم رکھتی ہیں۔اور عظیم الشان قرار پاتی ہیں۔اسی لئے حضور نے ایک پیسہ دو پیسے چندہ دینے والوں کے اسماء بھی نہایت قدر و احترام کے ساتھ اپنی تحریرات میں درج فرمائے ہیں۔بفضلہ تعالیٰ خان صاحب کو ذیل کی مالی خدمات کی بھی بہت توفیق ارزاں ہوئی: