اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 216 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 216

۲۱۶ تھے وہ بے ایمان نکلے اور ان کے دلوں میں بجائے جبرائیل کے شیطان نکلا استغفر اللہ غرض یہ تو ممکن ہے کہ چند اشخاص نہ سمجھیں۔مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کثرت غلطی میں ہو۔سچ پوچھو تو جب ہم منکرین کی طرف غور کرتے ہیں تو صرف ایک دو ہی ایسے پاتے ہیں جو مسیح موعود اور خلیفہ اول کی صحبت میں رہے۔حقیقت میں غور کیا جائے تو منکرین خلافت رافضی ہیں اور خارجی بھی۔رافضی اسی لحاظ سے کہ انہوں نے خلافت اولیٰ کو غلطی پر سمجھا اور خارجی اس لئے کہ اہل بیت سے عداوت روا رکھی۔کہتے ہیں کہ بعض عقائد مثلاً وفات مسیح کے مسئلہ میں جب تیرہ سو سال تک غلطی رہ سکتی ہے تو چھ سال کی غلطی بڑی بات نہیں۔ایک طرف تو یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے خلیفہ اول کی بیعت ان کے تقدس اور تبحر علمی کی وجہ سے کی تھی۔اور دوسری طرف یہ بھی اقرار ہے کہ غلطی کی۔یہ سچ ہے کہ تیرہ سو سال تک وفات مسیح کے متعلق غلطی رہی مگر وہ عوام الناس کی تھی نہ کہ صحابہ کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ثبوت دیا ہے اور ہم ہمیشہ مخالفین کے مقابلہ میں پیش کرتے رہے ہیں کہ صحابہ کا اجماع وفات مسیح پر تھا۔اور پھر اسی غلطی کو وحی الہی نے درست کیا۔مگر تمہارے پاس کوئی بھی سند وحی کی ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اب تمہارا قول و فعل درستی پر مبنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پنجوقتہ نماز میں سمجھا دیا ہے کہ امام امیر یا خلیفہ وقت کی بیعت یا اطاعت کس طرح ہونی چاہیئے اگر امام غلطی کرے تو مقتدی کو نہایت ادب سے بتادینا چاہیئے اور اگر وہ سمجھ لے اور اس غلطی کو درست کر لے تو خیر ورنہ مقتدی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ نماز سے الگ ہو جائے کیونکہ اس سے جماعت ٹوٹتی ہے۔بلکہ اسے حکم ہے کہ امام کی پیروی کرے اس طرح باوجود یکہ اس نے اپنی سمجھ کے مطابق غلطی کی مگر