اصحاب احمد (جلد 3) — Page 213
۲۱۳ اور فرشتوں کی تحریک ہی نشان الہی ہوتی ہے۔اسی واسطے قرآن شریف میں حکم ہے اور مسلمانوں کے ایمانیات میں داخل ہے کہ فرشتوں پر ایمان لاؤ۔یعنی ان کی تحریکات پر عمل کرو۔محض زبان کے انکار اور اقرار سے کچھ فائدہ یا نقصان نہیں عائد ہوتا فرشتوں پر ایمان لانے سے مقصودان کی تحریکات کی پیروی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے بہتر اور خالص مومن وہ ہوتے ہیں جنہوں نے مامورمن اللہ کو اس کے وقت میں پہچانا اور اس کی صحبت میں رہے ہوں اور وحی الہی کے نیچے پرورش پائی ہو۔ایسے مومن کو عالم فاضل نہ ہوں۔سائنسدان اور فلسفی نہ ہوں۔ایم اے۔بی اے نہ ہوں اور جہاندیدہ اور تجربہ کار نہ ہوں۔مگر چونکہ وہ دیندار اور متقی اور پر ہیز گار ہوتے ہیں۔اس لئے جو قول اور فعل کثرت سے ان میں رائج ہوگا۔وہ فرشتوں کی تحریک سمجھی جائے گی۔اور خدا کی منشاء متصور ہوگا۔کیونکہ یہ تو اغلب ہے کہ ایک مامور من اللہ کی صحبت میں رہنے والے چند ایسے اشخاص ہوں جنہوں نے اس کی تعلیم وتربیت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو۔جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں منافق تھے یا کمزور مسلمان تھے مگر یہ ناممکن ہے کہ کثرت سے ایسے اصحاب ہوں جن کے دل ایمان سے خالی ہوں۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اکثر حصہ جماعت فریبی اور نفس پرست ہے تو پھر اس مامور کی ماموریت باطل ہو جاتی ہے اور وہ جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔اگر کثرت سے پھل گندے ہوں تو اس درخت کے گندہ ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔غرض ایک مامور کے صحابہ کثرت سے دیندار ہوتے ہیں۔ان کے قلوب دین کی ملونی سے خالی ہوتے ہیں۔ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا۔ان کا دل خدا کا تخت گاہ ہوتا ہے۔ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور ان کی تحریکیں عین منشائے الہی ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی