اصحاب احمد (جلد 3) — Page 214
۲۱۴ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد جس معاملہ میں قول اور فعل میرا ثابت نہ ہو۔صحابہ کی پیروی کرو۔یعنی جس عقیدہ اور تحریک پر کثرت سے صحابہ قائم ہوں وہی خدا کی طرف سے سمجھو اور یہی وجہ ہے کہ خلفائے را شدین کو خدا کی طرف سے خلیفہ سمجھا گیا۔اور آیت استخلاف کے ماتحت ان کے منکرین کو فاسق قرار دیا گیا۔وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خلافت محض دنیا وی رنگ کی تھی جہاں تک مجھے معلوم ہے تمام بزرگوں کا اس پر اتفاق ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی لکھا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے دینی خلیفہ تھے اور ان کا منکر یقیناً فتویٰ فسق کے نیچے ہے۔اور نیز جہاں تک میراعلم ہے صوفیائے کرام کے جملہ فرقے اپنے سلسلوں کو انہی چار خلفاء کی طرف منسوب کرتے ہیں۔یہ بھی ایک دلیل ہے۔ان کے دینی خلیفہ ہونے کی اور یہ خلافت ان کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبھی ہوئی کہ صحابہ کرام نے کثرت سے ان کو اپنا پیشوا تسلیم کر لیا ورنہ ان کو خدا کی طرف سے خلافت کی وحی نہیں ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اول تو ان کی اور اپنی خلافت کو ایسا سمجھتے ہیں۔جیسے حضرت آدم اور داؤد علیہ السلام کی خلافت۔کیونکہ صحابہ کا ایک بات پر متفق ہونا وحی الہی کی مانند ہے۔اس عقیدہ کا انہوں نے زور سے اعلان کیا۔اور یہ کہا۔فرشتہ بن کر میری اطاعت کرو۔ابلیس کی طرح بغاوت نہ کرو۔یہ تحریر موجود ہے۔اس کا انکار نہیں ہوسکتا۔غرض یہ ناممکن ہے کہ ایک مامور من اللہ کے بعد صحابہ کا اجماع غلطی پر ہو البتہ جوں جوں صحابہ کم ہوتے جاتے ہیں اور بعد زمانہ سے ایمان کی رنگت نہیں رہتی جو اول المومنین کو حاصل ہوسکتی ہے اسی طرح ان کی کثرت کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو درجہ حضرت نبی کریم کے چار خلفاء کو ملا وہ یزید کو نہ نصیب ہوا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے اس کو کسی فرقہ اسلامی نے دینی خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔یہ سچ ہے کہ اس کی