اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 205 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 205

۲۰۵ دوسری خصوصیت یہ تھی کہ یہ لوگ باتوں باتوں میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا ذکر چھیڑ دیتے تھے اور بظاہر تعریف کر کے یہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتے کہ وہ لیڈر بننے کے اہل نہیں۔ان کی کاروائیوں سے ظاہر ہوتا تھا۔کہ ان کو یہ خوف تھا کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد کہیں وہ خلیفہ نہ ہو جائیں اور ان کو پہلے ہی جماعت میں خاصا رسوخ حاصل تھا۔پھر بھی انہوں نے دورہ کر کے تمام جماعت میں اپنے رسوخ کو اور بڑھانا چاہا۔اور ساتھ ہی یہ بھی کوشش کرتے رہے کہ لوگوں کے دلوں سے حضرت میاں صاحب کی محبت کم کر کے ان کی عزت گھٹا دیں مجھے چونکہ حضرت میاں صاحب کے بعض حالات معلوم تھے۔اور مجھے ان سے محبت تھی۔اس لئے میں غیر مبایعین کی باتوں کو پسند نہیں کرتا تھا اور ہمیشہ ان کی مخالفت کیا کرتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے میرے سامنے ایسی باتیں کرنا ترک کردیں۔میری عدم موجودگی میں دوستوں سے ایسی باتیں کرتے اور جب میں ہوتا تو خاموش ہو جاتے۔حضرت خلیفہ اول کا خواجہ صاحب کے متعلق خیال حضرت خلیفہ اول جب آخری ایام میں بیمار ہوئے تو اس وقت حضرت میاں صاحب شملہ گئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول نے لکھا کہ اس قدر لمبا عرصہ آپ کا باہر رہنا میں پسند نہیں کرتا۔اس لئے اب آپ واپس آجائیں۔چنانچہ جب آپ ۱۹۱۳ء کے اخیر میں شملہ سے واپس گئے۔تو حضرت خلیفہ اول نے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا کہ شملہ کی جماعت کس طرف ہے ہماری طرف ہے یا خواجہ صاحب کی طرف کیونکہ نبوت وغیرہ کے مسئلہ کے متعلق جو اختلاف جماعت میں شروع ہو گیا تھا۔اس کا حضرت خلیفہ اول کو بھی علم تھا۔حضرت میاں صاحب نے جواب دیا کہ حضور وہ تو کچھ خواجہ صاحب کی طرف جھکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کہ برکت علی کدھر ہے؟ حضرت میاں صاحب نے جواب دیا کہ وہ تو ہماری طرف ہیں اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ہاں بے شک ہم جانتے ہیں کہ وہ ہماری طرف ہوگا۔کیونکہ وہ بڑا مخلص ہے۔