اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 200 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 200

تصدیق نبوت شہادت دی: آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی نبوت کے متعلق ذیل کی حلفیہ میں خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا احمدی ہوں۔اور میں نے ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے زمانہ میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔صحیح طور پر اور اصلی معنوں میں اللہ کا رسول اور نبی یقین کرتا تھا۔نہ کہ محض استعارہ اور مجاز کے رنگ میں جہاں تک یاد پڑتا ہے اس عقیدہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک غلطی کا ازالہ اور حقیقۃ الوحی“ تھے۔“ 66 اسی طرح آپ نے بیان کیا کہ : حضور کی نبوت کے متعلق پہلے بعض لوگوں کا یہ خیال معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی نبوت پہلے انبیاء جیسی حقیقی نبوت نہیں۔مگر ایک غلطی کا ازالہ شائع ہونے پر جماعت کا رحجان اس طرف ہو گیا کہ حضور بھی ویسے ہی نبی ہیں جیسے پہلے تھے۔گو ذریعہ حصول نبوت میں فرق ہے۔یعنی اگر پہلے انبیاء کو براہ راست نبوت تفویض ہوئی تھی تو آپ کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طفیل اور اقتداء سے یہ منصب ملا۔اس وقت بعض اصحاب اپنے ایسے غیر احمدی دوستوں یا رشتہ داروں کی نماز جنازہ جو سلسلہ کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔اور نہ کسی صورت میں بُرا کہتے تھے احمدی امام کے پیچھے پڑھ لیا کرتے تھے۔مگر جہاں تک مجھے یاد ہے۔ایک غلطی کا ازالہ کی اشاعت کے بعد میں نے نہ کبھی سُنا نہ حضور کی کسی تحریر میں پڑھا کہ حضور نے کبھی کسی کو کسی غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے کی یا کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کی کسی حالت میں بھی اجازت دی ہو۔انجمن تشحمید الاذھان کی رکنیت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ۱۹۰۰ء میں ایک انجمن قائم کی جس کا