اصحاب احمد (جلد 3) — Page 191
191 قادیان میں کسی برات میں آئے تھے۔تاریخ پر بات چیت شروع ہوئی۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رعب اس قدر غالب تھا کہ وہ ٹھیک طور پر بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔حضور اس بات پر زور دیتے تھے کہ نجات کے لئے اللہ تعالی۔قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔جب آپ ذرا جلال میں آگئے اور جوش سے سمجھانے لگے۔تو ان لوگوں نے سر جھکا دیا۔اور کہا کہ نجات کے لیئے ویدوں کا ماننا ضروری نہیں۔جو کوئی اچھے اعمال بجالائے گا۔نجات پا جائے گا۔حضور نے فرمایا اچھے اعمال کی علامتیں بھی قرآن کریم ہی بتا تا ہے۔اور قرآن کریم سے ہم معلوم کر سکتے ہیں۔کہ اچھے اعمال کو نسے ہیں جنہیں ہم بجالائیں تو نجات پائیں۔لیکن ویدوں پر عمل کر کے تمہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ اچھے اعمال کون سے ہیں۔اور جب تمہیں پتہ نہیں کہ اچھے اعمال کون سے ہیں تو پھر تم اچھے اعمال کس طرح بجالا سکتے ہو۔بہر حال نجات کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کریم پر ایمان لایا جائے۔اس پر وہ لوگ خاموش ہو گئے اور اُٹھ کر چل دئے۔(۶): حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب شہ نشین پر تشریف فرما ہوتے تو بعض اوقات پانی پینے کے لئے منگواتے۔اس میں سے تھوڑا سا پانی تو خود پی لیتے جو بچ رہتا خدام کی خواہش ہوتی تھی کہ اسے بطور تبرک ہیں۔چنانچہ تھوڑا تھوڑا حاضرین پی لیتے۔چنانچہ ایک دفعہ مجھے بھی اس نعمت میں سے حصہ ملا ہے۔خدام کے قلوب میں حضور کی جو محبت تھی اس کو وہی جان سکتے ہیں۔جنہوں نے ان محفلوں کا لطف اٹھایا۔خدام پروانہ وار نثا ر ہوتے تھے۔کوئی ہاتھ چومتا۔کوئی جسم مظہر کو ہاتھ لگا کر سینہ اور ہاتھوں پر ملتا۔کوئی ہاتھ پاؤں یا کندھے دباتا۔غرض ہر ایک اپنی اپنی محبت کے اظہار کے لئے علیحدہ علیحدہ راہیں تجویز کرتا۔میں نے خیال کیا کہ میں اس شرف سے کیوں محروم رہوں چنانچہ میں ایک دن آگے بڑھا اور آپ کا پاؤں مبارک دبانے لگا۔آپ خاموش بیٹھے رہے۔یعنی میری اس جرات پر کچھ نہیں فرمایا۔اور میں پاؤں دباتا رہا۔