اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 181 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 181

۱۸۱ آگئی اور پھر فیروز پور کی جماعت میں اور بعد پنشن انگلستان میں اور مراکز قادیان در بوہ میں نائب امام لندن، امام مسجد لندن، ناظر بیت المال، ناظر امور عامہ اور ناظر اعلیٰ وغیرہ جلیل القدر مناصب پر کامیاب طور پر خدمات کی توفیق ملی اور اب مقبرہ بہشتی قطعہ خاص ربوہ میں مدفون ہیں۔نیز آپ کی اولاد اور اولاد در اولاد کو بھی خدمات سلسلہ کی توفیق مل رہی ہے۔اولیت حضرت منشی برکت علی صاحب کو حاصل ہوئی اور الدال على الخير كفاعله کے قول نبوی کے مطابق آپ عظیم ثواب کے عند اللہ مستحق ہوں گے۔بفضلہ تعالیٰ۔قبول احمدیت آپ بیان کرتے ہیں: جہاں تک مجھے یاد ہے۔سب سے پہلے ۱۹۰۰ء میں جب میں شملہ میں تھا۔مجھے احمدیت کے متعلق بعض باتیں سنے کا اتفاق ہوا اور انہی دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی سُنا۔اتفاق سے میں مجرد رہتا تھا۔اور ایسی جگہ رہتا تھا جہاں دو چار کمرے پہلو بہ پہلو تھے۔ایک برآمدہ تھا۔اور وہاں ایک ایک دو دو کر کے ہم رہتے تھے ایک کمرہ میں دو تین احمدی دوست تھے اور باقی سب غیر احمدی تھے۔میرے کمرہ میں جو دوسرے دوست تھے وہ غیر احمدی تھے۔اخراجات میں کفایت کی غرض سے ہم نے میس بنایا ہوا تھا۔جہاں کھانے کے اوقات میں کھانا کھانے کے لئے ہم سب اکٹھے ہوتے اس طرح میں احمدیوں کا واقف ہو گیا۔چونکہ ایک احمدی احمدیت کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس لئے لازماً جب ہم اکٹھے ہوتے تو احمدیت کا ذکر چھڑ جاتا۔طبعی طور پر طبیعت میں رُشد تھا۔نئی روشنی کی کتابیں اور اخبار پھر اسی طرح احمدیت کی کتب بھی میں دیکھ لیا کرتا تھا۔سرسید احمد خاں کا رسالہ ”نئی روشنی بھی زیر مطالعہ رہا۔انہوں نے قرآن کریم کی تفسیر بھی لکھی ہے۔اس کا بھی میں نے ایک پارہ پڑھا۔جس سے مجھے ان کے