اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 180 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 180

۱۸۰ دوسال کے بعد کوشش کر کے آپ نے دفتر ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس میں تبدیلی کرالی۔اور یہیں بقیہ مدت ملازمت گذری۔پہلی جنگِ عظیم میں آپ کو خوب تندہی سے کام کرنے کی توفیق ملی۔اور بغیر آپ کی کسی کوشش یا علم کے انہی خدمات کے پیش نظر افسران دفتر نے سفارش کر کے آپ کے لئے حکومت ہند سے ۱۹۲۰ء میں ”خان صاحب کا خطاب منظور کروایا۔۱۹۳۲ء میں پنشن پا کر آپ قادیان ہجرت کر آئے۔اور قیام پاکستان پر ربوہ ہجرت کی اور وہیں دفن ہوئے۔آپ وجیہ اور شکیل باوقار اور سنجیدہ طبع تھے۔سانولا رنگ دراز قد نرم خو کم سخن صحت مند تھے۔خضاب لگاتے تھے۔داڑھی مشرع تھی۔ہاتھ میں چھڑی رکھتے تھے۔۱۹۴۱ء کے قریب خاکسار نے آپ کے ماتحت ایک ڈیڑھ ماہ تک بطور قائم مقام معاون ناظر بیت المال کام کیا اور آپ کو بااصول ، باتدبیر، ٹھنڈے مزاج اور محنتی۔معاملات پر پوری توجہ دینے والے اور دفتری اوقات کا پابند پایا نہایت قابلیت سے آپ نظارت بیت المال کا کام سرانجام دیتے تھے۔آپ کو خاکسار نے صبح کے وقت بالعموم سیر کرتے دیکھا تھا۔آپ کے ذریعہ گو آپ کے جدی اقارب میں سے کسی کو احمدیت کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔لیکن آپ کے بہنوئی مکرم مولوی عمر دین صاحب ساکن موضع صریح ضلع جالندھر آپ کی تبلیغ سے احمدی ہو گئے۔وہ پہلے ہی بہت متقی اور متدین تھے۔اور اپنے علاقہ کے قاضی تھے اور اہل حدیث خیالات کے تھے۔انہیں بھی سلسلہ کی بہت سی خدمات کا موقعہ ملا جن کا ذکر صدر انجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹوں اور مشاورت کی رپورٹوں میں آتا ہے۔بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں ہے۔ان کی اہلیہ محترمہ یعنی خان صاحب کی ہمشیرہ جعفرہ بیگم صاحبہ ( جن کا نام رجسٹر بہشتی مقبرہ میں سہو ! زعفران بیگم درج ہوا ہے ) بھی بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔محترم مولوی عمر الدین صاحب اپنے فرزند محترم خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں تبلیغ کرتے رہے اور مکرم خان صاحب منشی برکت علی صاحب بھی۔ان کو قبول احمدیت کی سعادت خلافت اولی میں میسر : تاریخ وفات ۶ اپریل ۱۹۲۹ء۔