اصحاب احمد (جلد 3) — Page 16
۱۶ بچپن میں بابو صاحب نے موضع تھہ غلام نبی میں احمدی علماء کا چر چائنا تھا۔پھر گورداسپور شہر میں جس زمانہ میں آپ زیر تعلیم تھے اس وقت آپ کا قیام قریب کے موضع او جلہ میں اپنے ایک چچا کے ہاں تھا۔اس موضع کے دو بزرگ صحابی تھے۔ایک تو حضرت منشی عبد الغنی صاحب تھے۔ا جن سے آپ کے مراسم رفاقت عمر بھر رہے۔اور جن کی دوستی کو نیز بعض دیگر احباب کی دوستی کو آپ اللہ تعالیٰ کے افضال میں شمار کرتے تھے۔دوسرے بزرگ حضرت منشی عبد العزیز صاحب تھے۔ہر دومنشی صاحبان کے پاس سیکھوانی برادران حضرت میاں امام الدین صاحب ،میاں جمال الدین صاحب ومیاں خیر الدین صاحب آمد ورفت رکھتے تھے۔بابو صاحب وہاں مسجد میں مغرب وعشاء کے وقت اذکار درود شریف پڑھتے تھے۔آپ کو اچھا دیندار اور پابندِ صلوۃ پاکر او جلہ کی مسجد میں ان تینوں بھائیوں میں سے ایک نے آپ کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ لڑکا بہت نیک اور سعید ہے یہ ضرور احمدی ہو جائے گا۔اس پر آپ نے عدم معرفت کی وجہ سے کہا کہ میں اس طرح آپ کے جھانسے میں نہیں آتا۔اور مرزائی نہیں ہوتا۔ایک مومن نے خدا داد فراست سے ۱۸۹۶ء سے ۱۸۹۸ء کے عرصہ میں کسی وقت ایک کم عمر نوجوان کے متعلق جو بات کہی تھی وہ آٹھ دس سال کے بعد ۱۹۰۵ء میں پوری ہوگئی۔آپ تحریر کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے۔ایک دن حضرت ام المومنین بھی منشی عبد العزیز صاحب کے گھر او جلہ آئی تھیں۔ان ایام میں حضور مقدمات کے تعلق میں گورداسپور آیا کرتے تھے۔ایک دفعہ میرے سُسرال موضع منگل کوٹلی کے سامنے میاں (شیخ) بقیہ ہمہ صفحہ ۱۶ : پڑھتے پڑھاتے تھے تو بوجہ مُریدی گھر میں ان کی اقتدا میں نمازیں کئی بار پڑھنے کا بار ہا ذکر آنا چاہئے تھا نہ کہ ایک بار۔چونکہ والد صاحب حضرت مسیح موعود کے مُرید نہ تھے۔اس لئے ایک بار جو زیارت کی تو نورانی چہرہ اور نذرانہ پیش کرنے اور جمعہ ساتھ پڑھنے کا ذکر خاص طور پر کیا۔بیان سے ظاہر ہے کہ بابو صاحب والد صاحب کے مخاطب نہ تھے اس وجہ سے یا مرورِ زمانہ سے ساری بات انہیں یاد نہیں رہی۔نیز حضور کا جمعہ پڑھانا ابتدائی ایام کا واقعہ ہوگا۔بروئے نقل رجسٹر بیعت میاں جمال الدین صاحب، میاں امام الدین صاحب، میاں خیرالدین صاحب کی تاریخ بیعت ۲۳ ہے تاریخ وفات ۱۳ ۱۴ و ۸ و ۳ ۸ ( بروئے الفضل و ۲۳۱۸ ۱۷۱۲ م هم ۱۰۵ و ۵۳ (۱۵) ولادت میاں خیر الدین صاحب ۱۸۶۴ء ہے۔