اصحاب احمد (جلد 3) — Page 157
۱۵۷ (۴) : علاقہ ملکانہ کے ارتداد کے سلسلہ میں ہنود کے جو منصوبے تھے ان کو ناکام بنانے کے لئے مالی قربانی بھی درکار تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مشاورت ۱۹۲۳ء میں فرمایا کہ اسلام پر یہ نازک وقت آیا ہے۔جیسے بچہ مری ہوئی ماں کو طمانچہ مارتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ وہ محول کر رہی ہے۔اگر وہ سمجھ جائے کہ ماں مرگئی ہے تو خیال کرو کہ اس کا کیا حال ہوگا۔اسی طرح اسلام پر دشمن کا جو حملہ ہے اگر اسے پورے طور پر سمجھ لیا جائے تو کوئی قربانی مسلمان اس کے انسداد کے لئے اٹھا نہ رکھیں۔اس فتنہ کے انسداد کے لئے چندہ خاص نصف لاکھ روپیہ کی فراہمی منظور کی گئی۔اور اس کا اقل چندہ ایک سو روپیہ رکھا گیا۔جنرل اوصاف علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کے نصف ہزار روپیہ کے چیک کا حضور کی طرف سے اعلان کرنے پر احباب نے رقوم پیش کرنا شروع کیں۔جن کی تعداد قریباً ساڑھے دس ہزار ہو گئی۔با بوفضل احمد صاحب نے سوا دوصد روپیہ لکھوایا ہی ہے۔(۵): چندہ تحریک جدید میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دفتر اول میں شمولیت کی توفیق بخشی۔حالانکہ میری حالت بہت کمزور ہو چکی تھی۔اسی طرح خدائے رحیم و کریم نے چندہ وقف جدید میں شامل ہونے کی توفیق بھی عطا کی ہے۔آپ نے ۱۹۱۳ء میں وصیت کی تھی گویا اس رنگ میں پچپن سال تک مالی قربانی کا موقعہ آپ نے پایا *** بقیہ حاشیہ: دونے تین روپے تین نے پانچ روپے۔تین نے چھ روپے ایک نے دس روپے اور پانچ نے بارہ روپے ماہوار کا ذمہ لیا تھا۔آپ کا نام بابو فضل اللہ ہیڈ کلرک کیمل کو نمبر ۵۱ چھاؤنی نوشہرہ مرقوم ہے فضل احمد کی بجائے سہو کتابت ہے۔رپورٹ مشاورت (صفحہ نمبر ۵۵) مزید اس وقت سینتیس ۳۷ افراد نے ایک ایک صد دو نے ڈیڑھ ڈیڑھ صد دو نے بشمول حضور دو دوصد۔جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اڑہائی صد۔ایک نے تین صدایک نے چار صد تیرہ۔پانچ نے پانچ پانچ صد اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ایک ہزار روپیہ پیش کیا۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں آپ کی محترمہ اہلیہ دوم کا چندہ انیس سالہ سات سو اٹھتہر روپے درج ہے۔۱۵ نمبر وصیت ۵۹۷ تاریخ وصیت ۱۹ جولائی ۱۹۱۳ء۔