اصحاب احمد (جلد 3) — Page 156
۱۵۶ موعود علیہ السلام نے فرمایا۔ع گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار منارة المسیح کی تعمیر کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ : اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقعہ پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔وہ خدا کو قرض دیں گے اور مع سود واپس لیں گے۔۱۴ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے اور میری زوجہ اول سردار بیگم کو اس چندہ کے ادا کرنے کی اس حال میں توفیق بخشی جب کہ ہمارے پاس زیادہ مال نہ تھا اور ہمارا نام منارہ پرلکھوا دیا۔میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ جیسا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مع سود واپس لیں گئے ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ معاملہ کیا۔مجھے اس چندہ کے ادا کرنے کے بعد بہت سا روپیہ دیا اولاد بھی دی اور زوجہ اول کو بھی بہت سا روپیہ دلایا۔الحمد الله ثم الحمد الله *۔(۳): آپ نے ۲۰۔۱۹۱۹ء میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے لئے فنڈ میں دو روپے ماہوار وظیفہ دیا حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب جنرل سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ ایسے بزرگوں کے متعلق جنہوں نے اس مبارک تحریک میں حصہ لیا تحریر کرتے ہیں: میں اس جگہ ان اصحاب کا شکر یہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جو اگر چہ اپنے لڑکے تو مدرسہ میں نہیں بھیج سکے۔لیکن انہوں نے اس خاکسار کی تحریک پر ایسے لڑکوں کے گل یا بعض اخراجات اپنے ذمہ لے لئے ہیں۔جن کو انجمن خرچ نہیں دے سکتی۔اللہ تعالیٰ ان کے مالوں میں برکت دے اور ان کے روپوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو توفیق دے کہ وہ ان کی خواہشوں کے مطابق دین کے بچے خادم بنیں اور ان کے لئے خدمت دین میں صدقہ جاریہ ہوں۔آپ دونوں کے اسماء یوں کندہ ہیں: ۱۴۱ شیخ فضل احمد بٹالہ، ۱۴۲ اہلیہ فضل احمد بٹالہ رپورٹ ( ص ۶۳ تا ۶۵) ان اکیس افراد میں سے تین نے ایک روپیہ دیا۔چار نے دوروپے۔