اصحاب احمد (جلد 3) — Page 148
۱۴۸ مومن کو اللہ تعالیٰ آفاق اور خود اس کے نفس میں نشانات دکھاتا ہے مگر کا فرنشانات سے ایسے گزر جاتا ہے کہ اس کو نظر ہی نہیں آتے۔بس میں یہ بھی اس کا نشان سمجھتا ہوں کہ اس نے محض رحم سے میری اور میرے بچوں کی پرورش کے سامان کر دئے حالانکہ بظاہر کوئی سامان نہ تھے۔مگر میرے خدا نے مجھے ہر طرح نوازا اور میرے ایمان میں ترقی اور تقویت بخشی اس کی عطا اور بخشش سے آسمان اور زمین فیض اٹھا رہی ہے۔جیسے مولانا روم فرماتے ہیں۔اے خدا اے خالق عرش بریں! شام را دادی تو زلف عنبریں! روز را شمع روشن اے کریم! کردی روشن تر از عقل سلیم اے خدا قربان احسانت شوم کان احسانی بقربانت شوم اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر اگر میں ہر وقت شکر ادا کرتا رہوں پھر بھی اس احسان کا کماحقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کا ایک خاص احسان مجھ پر یہ ہوا کہ مجھے احمد یہ سٹور قادیان کا مینجر ۱۹۳۵ء بنایا گیا تھا۔اور مجھے یہ توفیق ملی کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر ہدایت میں نے سٹور کے مکانات و دو کانات کی نیلامی کا بندو بست کیا۔اور اس وقت عام خیال یہ تھا کہ احمد یہ سٹور کی اراضی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ہی خریدی گئی تھیں۔جب ہم ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد ربوہ آئے اور الائمنٹ وغیرہ کی قیمتوں کا سرکار سے مطالبہ کیا گیا تو میں نے تمام خریدارانِ ارضیات و دوکانات و مکانات کو بحیثیت مینجر خرید کی تصدیقات دی تھیں۔اس میں ایک ٹکڑا اراضی میرے ایک لڑکے کے نام پر میں نے خریدا ہوا تھا۔جب میرا مطالبہ پیش ہونے کا وقت آیا تو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اراضیات کے ریکارڈ سے یہ پتا نہیں لگتا تھا کہ سٹور کی اراضی اس خاندان سے خرید کی گئی تھی۔میں سخت حیران ہوا کیونکہ مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ افسر متعلقہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ بطور مینجر