اصحاب احمد (جلد 3) — Page 138
۱۳۸ دفتر بھی حاضر ہوتے تھے۔اور بھی بہت سے احمدی بھائی خدمت کرتے رہے۔فجزاهم الله احسن الجزاء۔بحالی صحت پر جب میں نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں حالات لکھے اور احباب کے ایثار اور قربانی سے اطلاع دی تو حضور نے جماعت کو مبارک باد کا خط لکھا۔ایک غیر احمدی نے جب اس خدمت کا نظارہ دیکھا تو سمجھا کہ سب میرے رشتے دار ہیں۔اور یہ معلوم کر کے حیران رہ گیا کہ یہ سب اخوت اسلام اور احمدیت کی برکت ہے۔یہ خدمت اور محبت دیکھ کر میں بارہا ان احباب کے لئے دعائیں کرتا اور کہتا رہا۔ع تیرے کاموں پر مجھے حیرت ہے اے مولا کریم میرے جیسا گنہگار انسان اور تیری یہ عنایت ! ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء ۱۹۳۰ء غالبا جون میں کوئٹہ سے میری تبدیلی لاہور چھاؤنی ہوگئی۔لاہور میں مجھے سیکرٹری تبلیغ منتخب کیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی صدارت میں انتخاب ہوا اور محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے امیر جماعت لاہور مقرر ہوئے۔انہی ایام میں مکرم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم اور مکرم قاضی محمد نذیر صاحب لائیلپوری ( حال ناظر اصلاح وارشاد ) لاہور میں تشریف لاکر مباحثات کیا کرتے تھے۔بہت کام ان دونوں معزز احباب نے کیا۔اور میرے زمانہ سیکرٹری شپ میں لاہور میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے خوب تبلیغ ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔میں اکثر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتا رہتا ہوں۔ایسے ہی ایک موقعہ پر دعا کے لئے درخواست کی۔جس سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا۔غالباً اگست میں میری زوجہ ثانیہ بیمار ہو گئیں۔ہمارے کمانڈنٹ کرنل رائس نے میرے مطالبہ پر سپرنٹنڈنٹ لیڈی ایچیسن ہاسپٹل کے پاس پر زور سرکاری چٹھی لکھی کہ وہ ان کا علاج توجہ سے کریں۔لیکن ساتھ ہی بتایا کہ وہ ان سے واقف نہیں ہیں۔لیڈی ڈاکٹر انچارج نے چٹھی پڑھ کر کہا کہ کرنل صاحب تو میرے بڑے دوست ہیں۔انہیں شاید علم نہیں کہ میں انچارج ہو کر ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے لاہور آئی ہوں۔اور اسی وقت جوا با چٹھی لکھ کر مجھے دی کہ میں توجہ سے علاج کروں گی اور اپنے ولایت سے لاہور آنے کا بھی ذکر کیا۔اور مجھے ہر طرح سے تسلی