اصحاب احمد (جلد 3) — Page 137
۱۳۷ زیادہ الاؤنس ملا کرتا تھا اس لئے مجھے نقصان بھی سب سے زیادہ پہنچا۔خاکسار نے ہر چند چاہا کہ ملازمت چھوڑ کر تجارت شروع کر دوں اور استعفیٰ دے دوں مگر حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی نے اجازت نہ دی اور فرمایا ملازمت ہی کرتے رہو۔گو اس وقت مجھے اس کا سخت صدمہ ہوا۔کیونکہ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ میں اس حالت میں تھوڑی سی تنخواہ پر کام کروں۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کے کلام میں برکت رکھتا ہے۔یہ اس کا اثر اور حضور کا احسان ہے کہ مجھے ۱۹۳۶ء سے پنشن مل رہی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔۱۹۲۶ء کوہ مری اور پھر بنوں میں قیام رہا۔۱۹۲۷ء چند ماہ بنوں رہا۔پھر کوئٹہ تبادلہ ہوا۔۱۹۲۹ء نمونیہ کی وجہ سے داخل شفاخانہ کیا گیا۔میری زندگی کی امید منقطع ہوگئی تھی۔مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی دعا اور توجہ سے دوبارہ زندگی پائی۔اور حضور کی توجہ سے ہی جماعت نے میری بے حد خدمت کی۔تین احمدی ڈاکٹر۔حضرت ڈاکٹر خان صاحب محمد عبداللہ صاحب مرحوم و مکرم ڈاکٹر محمد عبدالرشید صاحب مرحوم پسر حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی۔اور مکرم ڈاکٹر عبدالمجید خان صاحب۔شاہجہانپوری مقیم قلات میری دیکھ بھال میں مصروف تھے۔اور حضرت مولوی فخر الدین صاحب سابق ہیڈ کلرک نمبر ۵۴ کیمل کو ر بابو محمد اسمعیل صاحب معتبر ہو ہیں ہیں اور بابو محمد سعید رح - صاحب حال ربوہ نے بہت خدمت کی۔رات کو باری باری کئی گھنٹے میرے جسم کو دباتے رہتے اور تمام رات اسی خدمت میں گزار دیتے اور ساتھ ہی یہ اپنے گھروں کے کام کرتے۔اور اپنے : آپ نے بتیس ۳۲ سال پنشن پائی۔: آپ قادیان ہجرت کر کے دارالبرکات میں مقیم تھے۔بعد ہجرت پھر کوئٹہ چلے گئے۔اور چند سال - قبل وہاں وفات پائی۔: چند سال قبل وفات پائی۔ان کے والد ماجد کے حالات میں ان کا ذکر اصحاب احمد جلد اول میں آتا ہے۔: آپ قلات میں قیام رکھتے ہیں۔: مدفون بہشتی مقبرہ قادیان۔فون مقبره بهشتی ربوہ۔چند سال قبل فوت ہوئے۔