اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 136 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 136

۱۳۶ میں ایک روز سورۃ فتح پڑھی۔اور جب پڑھا اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مُّبِينًا۔تو میرے دل میں گذرا کہ مجھ پر کوئی انعام الہی نازل ہوگا۔تلاوت سے فارغ ہوا تھا کہ اس کا تار کے ذریعہ میرے نام حکم آیا کہ کچا گڑھی ( نزد پشاور) میں پہنچوں۔میں وہاں پہنچا تو افسر مذکور کو جلال آباد جانے کا حکم آگیا۔اسی جگہ پر ہمارے یونٹ کا قیام تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ لڑائی سے ڈر کر بعض بار گیر بھاگ گئے۔اور اپنے مالکوں کے اونٹ چھوڑ گئے ہیں۔چونکہ وہ لڑائی کے دن تھے۔کمان افسر نے مالکان شتران کو حکم بھیجا کہ وہ اپنے فرار کردہ بارگیروں کی جگہ اور بار گیر بھیجیں۔مگر کوئی نہ آیا اور نہ مالکان نے جواب ہی دیا۔اس پر کمان افسر نے ناراض ہو کر ان کے اونٹ فروخت کر دیئے۔اور اپنے ماتحتوں کو دے دیئے۔اس کمان افسر نے میرے نام پر دو آسامیاں (چھ اونٹ ) لکھ دیئے۔اور اسی طرح دیگر عہدیداران مثلاً انڈین افسروں وغیرہ کے نام پر اونٹوں کا اندراج کر دیا۔جس سے مجھے قریباً دو ہزار روپیہ مفت میں مل گیا۔ع اے خدا قربان احسانت شوم لیفٹیننٹ اینڈرسن تبدیل ہو کر آئے اُن کا زمانہ میرے لئے بڑی عزت اور حکومت کا تھا۔۱۹۲۰ء میں میجر براٹسن آئے۔سنا گیا کہ یہ بڑا سخت افسر ہے۔میں ان دنوں مری میں تھا۔اس کی تار آئی کہ دفتر نیچے لاؤ۔میں راولپنڈی میں آیا اور اُن سے ملا۔افسر مذکور کو خدا نے ایسا موم کر دیا جیسے کوئی مرید ہوتا ہے۔اور ہر بات مانتا ہے۔مجھے ان ایام میں تنخواہ گورنمنٹ سے پچھتر روپے اور یونٹ سے الاؤنس ڈیڑھ سو روپیہ گویا گل سوا دوصد روپے ماہوار ملتے تھے۔ملٹری آڈٹ نے یہ سوال اٹھایا کہ سرکاری ملازمین کو دو جانب سے تنخواہ نہیں مل سکتی۔کیمل کور کے کلرکوں کی طرح ہم تین احمد یوں (۱) حضرت مولوی فخر الدین صاحب نمبر ۴ ۵ کیمل کو لاہور چھاؤنی۔(۲) با بوشاہ عالم صاحب نمبر ۵۲ کیمل کو ر جہلم۔اور (۳) خاکسار فضل احمد نمبر اہ کیمل کو راولپنڈی کو بڑا نقصان پہنچا۔کیونکہ حکومت ہند نے بھی یہی فیصلہ کر دیا کہ صرف تنخواہ ملا کرے گی۔الاؤنس نہیں دیا۔جائے گا۔اس طرح مجھے سوا دوسو کی بجائے صرف پچھتر روپے ملنے لگے۔چونکہ مجھے سب۔: اونٹوں کے مالک سردار اور ان کے ملازم بار گیر کہلاتے تھے ( فضل احمد )