اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 131 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 131

۱۳۱ صاحب سے حالات جنگ کا ذکر کیا۔فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اگر انگریز احتیاط نہیں کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔پھر تو پخانہ کا حال سُن کر کہ تباہ ہونے لگا تھا۔فرمایا شاید اسی کی طرف اشارہ تھا۔(۳): پھر ایک تدبر کرنے والے افسر میجر جی ایچ ، ڈیوس تبدیل ہو کر آئے۔ایک جمعہ کے روز میں ان کو حساب لکھوا رہا تھا کہ نماز جمعہ کا وقت ہو گیا۔میں نے کہا کہ آپ مجھے نماز پڑھ لینے دیں۔وہ کہنے لگے کہ میں نے سفر پر جانا ہے۔میں نے کہا کہ یہ نماز بڑی اہم ہے۔اور اس کا وقت جا رہا ہے۔سوچ سوچ کر کہنے لگا۔بہت اچھا۔نماز پڑھ لو۔میں حساب پھر کبھی لکھ لوں گا۔یہی افسر جب کشمیر گیا تو اس نے مجھے وہاں سے ایک مصلی لا کر دیا اور کہا کہ اس پر نماز میرے دفتر میں پڑھا کرو۔یہ ذکر میرا ہی ہے جو بغیر نام کے حضور نے ملا ئکتہ اللہ میں کیا ہے۔فرماتے ہیں: اگر دفتر میں کام کرتے ہوئے نماز کا وقت آجائے تو بے شک وہاں پڑھ لو۔مگر جہاں کوئی مجبوری نہیں اس حالت کے متعلق میرا یہی عقیدہ ہے کہ نماز نہیں ہوتی۔بعض دفعہ ملازموں کو ان کے افسر نماز نہیں پڑھنے دیتے۔ایک افسر تھا۔وہ ایک احمدی کو نماز نہیں پڑھنے دیتا تھا۔اس نے ملا زمت چھوڑ دی۔اور دوسری جگہ کر لی۔دوسری جگہ اسے ایسا انگریز افسر ملا جس نے خود مصلی لاکر دیا۔اور کہا اس پر میرے سامنے نماز پڑھا کرو۔تو جو شخص خدائے تعالیٰ کے لئے کوئی کام کرتا ہے۔خدا تعالیٰ خود۔اس کا انتظام کر دیتا ہے ۱۰ پھر میجر ای سی۔چیزنی آگئے اور شروع ۱۹۱۷ء میں ہم لوگ بنوں سے واپس راولپنڈی آگئے بنوں میں ۱۹۱۵ء تا ۱۹۱۷ء مجھے تبلیغ کی بہت توفیق ملی۔میرے ساتھ مولوی محمد عبد اللہ صاحب ساکن فتح پور ضلع گجرات تھے جو بعد میں درویش قادیان بن گئے۔اور لائبریرین کا کام ان کے سپر د ر ہا۔اور وہیں وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔یہ اس کتاب میں حضور کی جلسہ سالانہ ۱۹۲۰ء کی تقریر درج ہے ملا زمت ترک کرنے کا ذکر پہلے گزر چکا ہے