اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 130 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 130

کہا ہم کچھ پرواہ نہیں کرتا۔میں نے کہا کہ آپ برطانوی افسر ہیں۔آپ کو تو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن ساری بلا میرے گلے آپڑے گی۔مگر وہ نہیں مانے۔اور کہا کہ ہم حکم دیتے ہیں۔میجر رسالدار راجہ راج ولی اور خاکسار بنوں پہنچے تو وہاں تمام غیر احمدی عہدہ داروں نے شکایت کی کہ بابو فضل احمد کا فر ہے۔ہم اس کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔یہ ہمارا مذہب خراب کر رہا ہے۔اس کا تبادلہ کر دیا جائے۔رپورٹ پہنچنے پر راجہ موصوف ہنس کر کہنے لگے۔کہ اگر میں یہ رپورٹ صاحب تک پہنچاؤں تو ڈر ہے۔مبادا بے عزتی ہو۔کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر ہیں۔اور آپ جو کہیں گے وہ اسے درست سمجھیں گے۔آپ جتلائیں کہ آپ اس شکایت کا کیا جواب دیتے ہیں۔میں نے کہا کہ میں کہوں گا کہ صاحب! آپ دیکھیں۔قرآن کریم عیسائیوں کو پکا کا فر کہتا ہے۔پس جب آپ بڑے کا فر ہوئے اور آپ کے ساتھ ان لوگوں کا گزارہ ہو سکتا ہے۔تو میرے ساتھ کیوں نہیں ہوسکتا۔حالانکہ میں بقول ان کے چھوٹا کافر ہوں۔رسالدار صاحب سمجھ گئے۔اور وہ ان لوگوں کو کہنے ہی لگے تھے کہ شکایت نہ کرنا کہ اتنے میں سامنے سے افسر موصوف آگیا۔اور رسالدار نے فال ان FALL) (IN کرا دیا۔اور صاحب نے ہر ایک کو ایک ایک نسخہ دیا۔اور ہر ایک نے شکریہ ادا کیا۔اور سلام کیا اور کتاب لے لی۔اس کے بعد صاحب نے اس کتاب کی تعریف کی اور کہا کہ اسے پڑھا کرو۔میری میم صاحب تو اس کتاب کی عاشق ہے۔چند روز بعد صاحب موصوف کے تبادلہ پر ہم الوداع کہنے بنوں ریلوے سٹیشن پر گئے تو موصوفہ نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں آپ کی اس کتاب کو ساتھ لے جا رہی ہوں۔میں اس سے علیحدگی پسند نہیں کرتی۔اور اس کی بہت تعریف کی۔اس افسر کا یہ کہنا تھا کہ میرے دل پر اس کتاب کا ایسا اثر ہوتا ہے جیسے دہکتے ہوئے کوئلوں پر پانی گرنے سے ٹھس ٹھس کی آواز آتی ہے۔ایسا ہی میرے دل کے شعلے اس سے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔(۲): ۱۹۱۵ء مارچ میں تیں تینتیس ہزار افراد اقوام منگل ہمارے بریگیڈ متعین میراں شاہ پر حملہ آور ہوئے۔مگر جنرل فین (FANE) کے ہاتھوں شکست کھا کر بھاگ گئے۔بریگیڈ کے تو پخانہ کو جنرل مذکور نے راتوں رات پہاڑی کے عقب میں جانے کا حکم دیا۔لیکن وہ راستہ بھول گیا۔البتہ تباہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔میں نے قادیان آنے پر حضرت