اصحاب احمد (جلد 3) — Page 105
۱۰۵ میں بھی ہو گا۔تب مولوی صاحب کی جان میں جان آئی۔یہ مفہوم تھا اس واقعہ کا جو خود مولوی غلام محمد صاحب نے مجھے سنایا تھا۔(۲۳) برکت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھوکا نہ رہنا فرمایا کہ ایک دفعہ ہم مہاراجہ کشمیر کے ساتھ سفر میں تھے کہ راستہ میں لوگ منتشر ہو گئے۔اور مہاراجہ اور میں اور مہاراجہ کے ایک دو ملازم باقی رہ گئے۔رات کو ایک ڈاک بنگلہ پر پہنچے تو دل لگی سے راجہ نے کہا کہ آپ کہا کرتے ہیں کہ میں رات کو بھوکا نہیں رہ سکتا۔اب دیکھئے کیا ہوتا ہے۔میں نے کہا کہ یہ درست ہے۔میرے ساتھ بادشاہ ہے میں بھوکا نہیں رہ سکتا۔راجہ نے خیال کیا بادشاہ سے مراد وہ خود ہیں۔اور اپنے ساتھ جو ملازم تھے ان کو حکم دیا کہ مولوی صاحب کے لئے کھانا لاؤ خواہ کہیں سے لا ؤ اور ان کو رات ہرگز بھوکا نہ رکھا جائے۔ملازم میرے لئے کہیں سے کھانا لائے اور مجھے جگا کر کھلایا۔صبح ہوئی تو میں نے مہاراجہ سے کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح میرے بادشاہ ( مراد حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے رات کھانا بھجوایا۔غالبا ۱۹۱۲ ء میں میں حضرت خلیفہ اسیح اول کے درسوں میں شامل ہوتا رہا۔ایک درس غالباً نماز عشاء کے بعد ہوتا تھا۔جو آپ اپنی چھوٹی سی بیٹھک میں جس کا دروازہ ڈیوڑھی کے اندر کی طرف کھلتا تھا دیا کرتے تھے۔اس درس میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ حکیم نظام جان صاحب بھی موجود تھے۔رات آٹھ اور نو بجے کے درمیان کا وقت تھا کہ احمدی شیر فروش مستمی محمد بخش صاحب آئے۔جن کی دوکان بھائی شیر محمد صاحب کی دوکان کے ساتھ تھی۔اُن کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔جو بالائی سے بھرا ہوا تھا۔وہ کمرہ میں آکر کھڑے ہو گئے۔آپ نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو انہوں نے کہا۔حضور ! آج سارا دن میرے دل میں یہی خواہش پیدا ہوتی رہی کہ آپ کے لئے بالائی لاؤں۔سو دودھ کو جوش دیتا رہا۔اور جب ہلکی سی بالائی آجاتی تو اسے اتار کر پیالہ میں ڈال دیتا۔حضور قبول فرمائیں۔آپ نے پیالہ لے لیا اور فرمایا کہ ہم اندر ( گھر میں ) گئے تھے۔کھانا مانگنے پر کہا گیا کہ کھانا تو ختم ہو چکا ہے۔بچوں نے کھا لیا ہے۔مگر چونکہ ہمارا رات کا کھانا حضرت نبی