اصحاب احمد (جلد 3) — Page 106
1+4 کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ہے۔اس لئے وہ بالائی کی شکل میں آگیا ہے۔اور یہ بھی فرمایا کہ ہلکی بالا کی ثقیل نہیں ہوتی۔اور پھر وہیں درس میں بالائی کھالی۔(۲۴) مہا راجہ سے مرعوب نہ ہونا بلکہ مہاراجہ کا مرعوب ہونا حضرت خلیفہ اول نے بیان کیا کہ ایک دفعہ مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کشتی میں جھیل ڈل کی سیر کر رہے تھے۔مہاراجہ کو پوجا کرانے والا پنڈت اور چند اور افراد بھی ہمراہ تھے۔عصر کی نماز کا وقت ہونے پر میں نماز پڑھنے لگا۔پنڈت نے کہا۔مہاراج! آپ نے دیکھا کہ مولوی صاحب نے آپ سے اجازت لئے بغیر نماز پڑھنی شروع کر دی ہے۔مہاراجہ نے بات سنی لیکن جواب نہ دیا۔تھوڑی دیر بعد پنڈت نے پھر یہی بات دہرائی۔مگر مہا راجہ نے خاموشی اختیار کئے رکھی جب میں نے نماز پڑھ لی تو مہاراجہ نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ مولبی جی! ( یعنی مولوی جی ! وہ مولبی تحقیر کے لئے نہیں کہتا تھا۔بلکہ اس کی طرز تکلم ایسی ہی تھی ) کیا آپ نے سُنا اس پنڈت نے کیا کہا ؟ میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں سنا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد مجھ سے پوچھا اور تیسری بار بھی پوچھا۔میں نے ہر بار یہی جواب دیا۔مہاراجہ کو غصہ پر غصہ آ رہا تھا۔اور اس کا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔پھر مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا۔مولبی جی! آپ لوگ عالم ہیں اور ہم عالموں سے بہت ڈرتے ہیں۔آپ کو علم ہے کہ فردوسی شاعر تھا۔اور سلطان محمود بادشاہ۔اور بیگم کا بیٹا تھا۔مگر فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں لکھ دیا۔اگر مادر شاه بانو بدے مرا سیم وزر تا بزانو بدے اگر شاه را شاه بودے پدر بر زر نہا دے مرا تاج یعنی سلطان محمود لونڈی کا بیٹا تھا۔اور اس کا باپ بھی شاہ نہ تھا۔غلام تھا ہم لوگ جو راہے اور نواب ہوتے ہیں ہمارے پاس بادشاہوں کے شجرہ نسب ہوتے ہیں۔اور ہم کو خوب علم ہے کہ سلطان محمود بادشاہ کا بیٹا تھا اور اس کی ماں شہزادی تھی۔مگر جہاں میں کیا مشہور ہو گیا۔کہ سلطان لونڈی زادہ تھا۔اسی پر قیاس کر کے میں کہتا ہوں کہ آپ کب تک ہمارے ملازم رہیں گے۔ایک