اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 88 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 88

تھی۔چنانچہ چند پیڑے منگوا کر صبح بطور سحری کھا کے روزہ رکھ لیا۔مگر بہت ضعف ہو گیا۔دوسرے تیسرے روز سٹور کیپر کو جو ہندو تھا اس تکلیف کا علم ہوا تو اس نے سحری اور شام کی روٹی کا انتظام کر دیا۔اور پھر وہ نانبائی بھی روٹی دینے لگ گیا۔یوں اللہ تعالٰی نے احمدیت کا نام بھی پہنچا دیا اور مجھے مفت میں ثواب بھی عطا کر دیا۔جب میں چکدرہ جانے لگا تو کسی نے بتایا کہ وہاں کا ملیریا کا موسم بہت خطرناک ہے اور وہاں تو پتھروں کو بھی ملیریا ہو جاتا ہے مجھے بہت فکر ہوا اور میں نے عاجزی سے دعائیں مانگیں دوسرے روز چکدرہ روانہ ہوا تو بہت خوف زدہ ہوا۔اور چکدرہ آنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا اللهُم رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْع (الخ) بہت عاجزی سے پڑھی اور بہت سوز سے دعائیں کیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ اگر کسی وباء زدہ شہر میں جانا پڑے تو اس دعا کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ اس وباء سے بچالے گا۔قلعہ چکدرہ کے پاس دریا کا پانی وہاں کی فصل والی زمین میں سے گذرتا ہے جسے سب پیتے ہیں اس لئے ملیریا ہو جاتا ہے۔وہاں میرے ایک ہم جماعت ہندو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے چکدرہ میں متعین کیا گیا تو میں بہت فکر مند ہوا۔کیونکہ سخت ملیریا کی وجہ سے یہاں کے ایک سو میں سواروں میں سے توے فیصدی بیمار ہو جاتے ہیں۔مگر میری کوشش کے باعث اس دفعہ میں فیصدی کے قریب ہی بیمار ہوئے۔میں نے کہا کہ اس کا باعث یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعانے میرے جیسے گنہگار کی زبان پر آکر اپنا خاص اثر دکھلایا ہے۔اس ملازمت میں تین ماہ گزارنے پر میرے ایک مہربان افسر میجر اے ، ڈبلیو، ڈی، ہیر نگٹن کمانڈنٹ کیمل کور، راولپنڈی کی چٹھی آئی کہ جلدی ان کے پاس پہنچوں۔شکر گزار ہوں کہ نوشہرہ والے افسر نے راولپنڈی جانے کی اجازت کے ساتھ پیشگی تنخواہ دلوائی۔اور غالباً نومبر 1911ء میں راولپنڈی پہنچا۔میجر صاحب مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اور حکم دیا کہ رہائش اُن کی کوٹھی پر ہی رکھوں۔لیکن کسی کو علم نہ ہو کہ مجھے انہوں نے بلایا ہے۔فیصلہ تقرری سے ایک روز پہلے مجھے راجہ راج ولی خاں صاحب کے ہاں بطور مہمان بھیجوا دیا۔اور کہا کہ کل آفس آرڈر کروں گا۔غرض حضرت خلیفہ اول کی دعاؤں کی برکت سے