اصحاب احمد (جلد 3) — Page 60
امرتسر ریلوے سٹیشن پر بابو صاحب نے آپ کو اپنے ہاں چائے پینے کی دعوت دی۔دیگر بہت سے احباب بھی ساتھ چل پڑے۔گھر پر چائے تو تیا ر ہو گئی لیکن اتنے افراد کے لئے اس غریب صاحب خانہ کے ہاں پیالیاں کہاں تھیں۔اور اس زمانہ میں چائے کا رواج بے حد کم تھا۔سو گھر میں میسر برتنوں حتی کہ گھڑوں کے ڈھکنوں وغیرہ تک میں آپ نے چائے پلائی۔آپ کے بیٹے ایم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ چھوٹے ریلوے سٹیشنوں پر زمیندار بالعموم بلا ٹکٹ سفر کرتے اور بلا کرایہ سامان لاتے یا لے جاتے ہیں۔اور اس پر چشم پوشی کے عوض سٹیشن ماسٹر کو بھینس کے لئے بھوسہ اور گھر کے لئے اناج مفت فراہم کرتے ہیں۔لیکن بابو صاحب ایسی ناجائز مراعات نہیں دیتے تھے۔نیز آپ کی دیانتداری کی وجہ سے سٹیشن کا تیل مٹی اور سٹیشنری وغیرہ کا خرچ کم ہو جاتا تھا۔کیونکہ آپ گھر کے لئے ان سرکاری اشیاء کا استعمال حرام سمجھتے تھے۔تبادلہ ہونے پر جو نیا سٹیشن ماسٹر آتا وہ ملنے پر بہت سٹ پٹاتا۔کیونکہ اپنے گھر کی ضروریات پر صرف کرنے کی گنجائش نہ پاتا۔اور غصہ میں کہتا کہ باب فقیر علی نے تو اس سٹیشن کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔چونکہ رشوت نہ لیتے۔دوسروں کی طرح ٹریفک انسپکٹر کو حصہ نہ دے سکتے تھے۔اس لئے اسکے عتاب کے مورد بنتے اور وہ اس قسم کی جھوٹی رپورٹیں آپ کے خلاف کرتا کہ سٹیشن کے سگنلز کے شیشے صاف نہیں۔روشنی مدھم ہے وغیرہ۔آپ نے ۲۹ دسمبر ۱۹۰۸ء کو اپنی آمد و جائیداد کے ٫۵ا حصہ کی وصیت حق صدر انجمن احمد یہ قادیان کی آپ کا وصیت نمبر ۳۱۹ ہے دفتر اول چندہ تحریک جدید میں آپ کا۔آپ کی اہلیہ اولیٰ اور اہلیہ ثانیہ کا علی الترتیب تین صدتیں روپے۔باون روپے اور ایک صد گیارہ روپے ادا ہوئے پانچیزاری مجاہدین۔ص ۱۷۴، ۱۷۵) جہاد علاقہ ملکانہ کے دوران میں ان کے لئے عید الاضحی کے موقعہ پر قربانیوں کی تحریک جماعت میں کی گئی۔باوجود وقت کی تنگی کے دوسو سولہ قربانیوں کی رقوم بحساب چھ روپے فی قربانی) پہنچی۔بعض احباب نے آخری وقت علم ہونے پر بذریعہ تار رقوم بھجوائیں بابو صاحب نے ایک قربانی کی رقم ادا کی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے چالیس ہزار روپیہ چندہ خاص کی تحریک ہونے پر بابو صاحب نے دس روپے نقد چندہ دیا ہر دو موقع پر آپ سو اہل سٹیشن پر متعین تھے