اصحاب احمد (جلد 3) — Page 54
۵۴ پکارنے لگے۔اتنے میں آسمان سے ایک تخت اترا میں خوش ہوا کہ ہماری نجات کا سامان ہو گیا ہے لیکن پردہ اٹھا کر کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس دن سے میں صداقت اسلام کا قائل ہو چکا ہوں۔آپ نے کہا تب تو آپ کو مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھنی چاہئیں۔انسپکٹر موصوف نے جواب دیا یہ مسلمان ادنی لوگ ہیں۔آپ جیسا مسلمان ہو تو میں نماز میں شرکت کر سکتا ہوں۔اس پر آپ نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی اور پوچھا آیا خواب میں تخت والے نبی اس شکل کے تھے۔تو اس نے حیرانی سے پر انگلی رکھ لی اور کہا نہ میں انکار کرتا ہوں نہ میں اقرار کرتا ہوں۔خدمت خلق آپ کے صاحبزادہ ایم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ امرتسر کی تعیناتی کے عرصہ میں خصوصاً احمدی مسافروں کی خدمت کا آپ کو خوب موقعہ ملا۔بابو صاحب لکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں گارڈ۔ریلوے انسپکٹر اور بڑے سٹیشنوں کے سٹیشن ماسٹر انگریز ہوتے تھے۔پڈعیدن سے خان پور تک کا ریلوے عملہ سوائے دو مسلمانوں کے سارا ہندو تھا۔البتہ چونکہ مال گاڑیوں کے گارڈ یا انجنوں کے سٹاف معمولی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ان میں سے کچھ مسلمان بھی تھے اس زمانہ میں میٹرک پاس ہونے کی وجہ سے میں تعلیم یافتہ شمار ہوتا تھا اور یہ ریلوے عملہ مجھ سے درخواستیں لکھواتا تھا۔ریلوے عملہ کے ہر ملازم کے لئے حصول ثواب کے بیشمار مواقع میسر آتے ہیں۔آپ تحریر کرتے ہیں کہ دورانِ سفر میں جھٹ پٹ سے ایک سٹیشن قبل ایک مسلمان ہیڈ ماسٹر کی اہلیہ کو زچگی شروع ہوگئی۔ہندو اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر نے اُسے بتایا کہ اگلے سٹیشن پر ایک مسلمان اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر ڈیوٹی پر ہے۔آپ وہاں پہنچیں۔چنانچہ گاڑی آئی تو میں نے اس خاتون کو پلنگ پر اٹھوا کر اپنے گھر بھجوا دیا۔اور ساتھ ہی اپنے افسرسٹیشن ماسٹر اور اس کی اہلیہ کو بھی بلوالیا۔اور ایک بلوچ لیوی سوار کو ایک تیز رفتار گھوڑے پر بھجوا دیا تا پچیس میل کے فاصلہ سے دایہ کو لے آئے۔میری اہلیہ نے اس خاتون کو اچھی طرح سنبھال لیا۔خدمت کی۔اور اللہ تعالیٰ نے اُسے چار لڑکیوں کے بعد بیٹا عطا کیا۔دایہ بعد مسافت کی وجہ سے بعد