اصحاب احمد (جلد 3) — Page 38
۳۸ ریل گاڑی کے جاری ہونے کے موقعہ پر مخالفین نے سرتوڑ کوشش کی کہ ریلوے سٹیشن قصبہ سے جانب جنوب بنایا جائے کیونکہ وہاں جماعت احمدیہ کی اراضی نہ تھیں اور اس طرح جماعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے دریافت فرمایا آیا کسی دوست نے خواب وغیرہ میں دیکھا ہے کہ سٹیشن کس طرف بنا ہوا ہے۔تو حضرت مرزا محمد اشرف صاحب نے اپنا ایک خواب اور حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے اپنی قبول احمدیت سے قبل کا اپنا ایک خواب سنایا۔ہر دو نے موجودہ مقام پر ریلوے سٹیشن دیکھا تھا۔اور یہی ہوا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی مساعی سے موجودہ مقام پر بطرف شمال سٹیشن بنوانے میں کامیابی ہوئی۔بٹالہ سے بوٹاری تک کی بجائے صرف قادیان تک ریلوے لائن تعمیر ہوئی اور کچھ عرصہ بعد بوٹاری تک کی خرید کردہ اراضی برائے تعمیر ریلوے لائن وغیرہ بھی فروخت کردی گئیں اس طرح اللہ تعالیٰ نے سینتیس ۳۷ سال سے یہ نشان نمایاں طور پر جاری رکھا ہوا ہے کہ یہ ریل گاڑی اس نے سلسلہ احمدیہ کی خدمت کے لئے جاری کی تھی۔اور اب بھی اس کی بین الاقوامی شہرت کی خاطر اسے قائم رکھا ہوا ہے۔یو ہ مختصر کوائف کے لیئے دیکھیں اصحاب احمد جلد اول (ص ۱۰۴،۱۰۳) : الحمد للہ ۱۹۵۶ء سے قادیان بٹالہ سٹرک پختہ بن چکی ہے اور چند سالوں سے امرتسر اور بٹالہ کی بس کمپنیوں اور پنجاب گورنمنٹ کس روڈ ویز کی بسوں کی آمد و رفت امرتسر اور جالندھر ( براستہ بابا بکالہ ) اور بٹالہ سے قادیان بلکہ موضع ہر چووال اور بھیٹ کے پین تک شروع ہے۔چونکہ اندرون قبصہ میں سابق سٹار ہوزری کے پاس کمیں گھلی جگہ میں ٹھہرتی ہیں۔اس لئے مسافروں کی اکثریت کو یکہ یا آدمی رکشا کے سٹیشن تک کے کرایہ کی بچت ہو جاتی ہے۔اور وہ بسوں کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔بٹالہ اور نواح تک یکے اور بعض دفعہ ٹیکسیاں بھی چلتی ہیں۔چند سال سے ایک آدمی رکشا بھی قادیان میں موجود ہے اور اناج منڈی قادیان ایک وسیع و عریض علاقہ کی واحد منڈی ہے۔اور اس کا تمام مال گندم۔دھان۔گڑ۔شکر۔مسور۔ماش۔تل اور جوار وغیرہ بٹالہ اور یوپی تک جاتا ہے اور امرتسر اور بٹالہ کا تجارتی مال اور پھل اور سبزیاں لڑکوں پر آتی ہیں۔ریلوے کی آمد اس سے متاثر ہونے پر تین چار سال قبل نارتھ ریلوے کے سب سے بڑے