اصحاب احمد (جلد 3) — Page 31
۳۱ پر آمدہ بیانات کے صحیح ہونے کے متعلق مجھے ذاتی طور پر تسلی ہے۔بابو فقیر علی نے حالات درست بیان کئے ہیں۔اس لئے آفیسرز انکوائری اور اس کے اخراجات غیر ضروری ہیں۔سوئم عام طریق یہی ہے کہ مسافر گاڑی سے متعلق حادثہ پر قصور وار اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کو ہمیشہ کے لیئے تنزل کر کے کلرک یا ٹرین کلرک کر دیا جاتا ہے۔لیکن مجھ سے یہ خاص سلوک ہوا کہ مجھ پر یہ پابندی صرف ایک سال تک رہی۔بعد ازاں مجھے گڈس کلرک سے سٹیشن ماسٹر کے گریڈ میں بحال کر کے ٹرین ڈسپیچر مقرر کر دیا گیا۔اور مجھے بحال کرنے والے مہربان افسر نے کہا کہ مزید پندرہ روپے الاؤنس ملنے کی وجہ سے میری سابق تخفیف بھی پوری ہو جائیگی۔چنانچہ میں سات سال تک امرتسر میں متعین رہا۔اور یورپین اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر اور میں باری باری ڈیوٹی دیتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی شفقت آپ تحریر کرتے ہیں۔میری ہمشیرگان کی منگنیاں اس زمانہ کے رواج کے مطابق اس وقت کی گئی تھیں جبکہ وہ ابھی گود میں تھیں۔لیکن میں نے احمدیت کی وجہ سے اپنے غیر احمدی اقارب سے قطع کر لی تھی۔اور ان کے رشتوں کے لئے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا تھا۔آپنے پہلے یہ مشورہ دیا کہ اقارب کو احمدی بنانے کی کوشش کی جائے۔لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔اور حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا گیا۔اور اخبارات الحکم یا بدر میں بھی اعلان کرایا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے مشورہ سے بھیرہ کے ایک احمدی سے جو پولیس میں محر ر تھا۔ہمشیرہ فاطمہ صاحبہ کا رشتہ طے ہوا۔جب رخصتا نہ دینے کے لئے میں مع کنبہ سکھر سے قادیان آیا تو اس شخص کی ہمشیرہ نے دوسری بہن ریشیم بی بی صاحبہ کا رشتہ اس کا رنگ قدرے خوبصورت ہونے کی وجہ سے طلب کیا۔یہ مطالبہ سخت تکلیف دہ تھا۔فیصلہ اور تیاری ایک کی شادی رچانے کی تھی۔اور عین وقت پر مطالبہ دوسری کے متعلق کر دیا گیا۔ان دنوں حضرت خلیفہ اول حضرت مسیح موعود کے مکان کے پچھواڑے میں قیام رکھتے تھے۔اور آپ کی عادت تھی کہ نماز عشاء کے بعد کسی کے ساتھ کوئی گفتگو نہ کرتے تھے۔خاموش جلدی گھر چلے جاتے تھے۔بابو صاحب دروازہ کے پاس جا کھڑے ہوئے اور دریافت کرنے پر