اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 254 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 254

۲۵۴ کی اور نہ بزدلی کی وجہ سے عام اعلان کیا۔ہم نے اعلان کر دیا کہ حضرت مرزا صاحب کے خلاف کچھ کہا گیا تو جواب دینا ہمارا فرض ہوگا۔اور مباحثہ تحریری کیا جا سکتا ہے تا بعد میں شائع کیا جا سکے۔احمدی مقرر کی تقریر ہوئی۔رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔مسجد کے متولی نے تو وہاں تقریر کرنے کی اجازت دے دی تھی لیکن متوتی کے شملہ سے باہر جانے پر دوسروں نے اجازت منسوخ کر دی۔اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کر دیا کہ ٹاؤن ہال ایک انگریز نے کرایہ پر لیا ہوا تھا اور فارغ نہ تھا۔اس انگریز نے بغیر کرایہ کے جلسہ کر لینے کی اجازت دے دی۔باوجو د سخت مخالفت کے حاضرین کثیر تعداد میں شامل ہوئے ۲۴۔(۵):۱۹۱۰-۱۱ء سالانہ رپورٹ میں یوں ذکر آتا ہے: شملہ سیکرٹری بابو برکت علی صاحب۔رقم مدخله خزانہ بابت ۱۰-۱۹۰۹ء ۸۶۰ روپے ۱۲ ۸ آنے بابت ۱۱-۱۹۱۰ء۸۳۰ روپے ۳ آنے۔۔۔۔بابو برکت علی صاحب نے سال بھر میں ۲۱۰ روپے ۲ آنے چندہ دیا۔مقامی چندہ ۲۱۰ روپے آنے ۲۶۵ روپے کرایہ مکان پر خرچ ہوئے۔قریباً ۱۲۵ روپے اس خرچ کو پورا کرنے کے لئے خاص چندہ کیا گیا۔تعداد مبایعین ۳۹ ہے۔پانچ غیر احمدی احباب چندہ میں شامل ہیں۔ہفتہ وار عام جلسے ہوئے ہیں۔سال حال میں اہم جلسے ہوئے سالانہ جلسہ کے علاوہ اور بھی جلسے ہوتے رہے۔“ (صا۷) (۶):۱۹۱۱-۱۲ء سالانہ رپورٹ میں یوں تحریر ہوا ہے: " دو شملہ میں رقم مدخلہ خزانہ بابت ۱۱-۱۹۱۰ء۸۳۰ روپے وبابت ۱۹۱۱-۱۲ء۱۱۹۱ روپے سیکرٹری با بو برکت علی صاحب ہیڈ کلرک۔رقم مدخلہ خزانہ گذشتہ سال سے ۲۹۴ روپے ۵۱۲ زیادہ ہے جس کی وجہ یہ کہ ۱۸۱ روپے کی رقم سیکرٹری صاحب کی ساس نے جو جولائی 1911ء میں فوت ہو گئی تھیں مسجد کے مصرف کے لئے دی۔۔۔بابو برکت علی صاحب نے سال بھر میں ۲۵۶ روپے ۸ آنے یعنی پچھلے سال سے ۳۵ روپے ۶ آنے