اصحاب احمد (جلد 3) — Page 237
۲۳۷ لیئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے علاوہ فلاں فلاں بائیس کتب ورسالہ جات کا ضرور مطالعہ کرے۔اس فہرست میں خانصاحب کی اس تصنیف کا نام بھی شامل ہے۔جس سے اس کا بلند پایہ علمی مرتبہ ظاہر ہے۔آپ نے یہ کتاب حضرت خلیفہ اول کے نام سے معنون کی تھی ہیں۔رسالہ ” گوشت خوری اکتوبر ۱۹۰۴ء کی آپ کی تین تقاریر کا مجموعہ ہے۔ماہنامہ تفخیذ الاذھان میں جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔اور آپ ہی کا جاری کردہ تھا۔ذیل کا تبصرہ شائع ہوا: یہ ایک مدتل رسالہ ہے جو منشی برکت علی صاحب شملوی نے چھپوایا ہے گوشت کھانے کو عقلی و نقلی طور پر آریوں کے مقابلہ میں جائز ثابت کیا گیا ہے۔ہر ایک احمدی کے پاس یہ رسالہ ہونا چاہیئے۔ہمارے پاس چند نسخے آگئے ہیں۔۶۰ صفحے کا رسالہ نہایت عمدہ چھپا ہوا ہے اور ہم قریباً اصل لاگت پر ۰۲ کے حساب سے دے دیں گے۔66 ریویو آپ ریجنز (اردو) میں یوں تبصرہ ہوا: اس نام کا رسالہ حال میں منشی برکت علی صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ شملہ نے شائع کیا ہے۔اس رسالہ میں منشی صاحب نے اپنی ان تین تقریروں کو نقل کیا ہے جو انہوں نے اکتو بر ۱۹۰۴ء آریہ سماج کے ساتھ ایک مباحثہ کے موقعہ پر پڑھیں۔تقریریں نہایت معقول اور مدلل ہیں۔علاوہ ازیں آریوں کی کتابوں سے نہ صرف گوشت خوری کو جائز ثابت کیا ہے بلکہ یہ بھی دکھایا ہے کہ ویدوں کے زمانہ میں گائے کا گوشت بھی آریہ ورت میں عام طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔اور جا بجا ہندوؤں کی :۱۹۰۴ء میں آریہ سماج شملہ کی گھاس پارٹی کی دعوت پر کہ متنازعہ مسائل پر دوستانہ گفتگو کی جائے۔اس موضوع پر خانصاحب کی یہ تین تقاریر ہوئیں۔مطبوعہ ۱۹۱۱ء۔صفحات ۸۱۔اکتوبر ۱۹۱۱ء (ص ۴۰۰) فروری ۱۹۱۲ء ( ص ۸۹) اور اپریل ۱۹۱۲ء ( ص ۱۴) میں نہایت مختصر اعلان ہوا ہے۔