اصحاب احمد (جلد 3) — Page 227
۲۲۷ میں نعش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے لانا چاہتا تھا۔حضور کی خدمت میں تحریر کیا۔مگر حضور نے تحریر فرمایا کہ کچھ ضرورت نہیں۔بچے جہاں بھی دفن ہوں جنتی ہوتے ہیں۔جنازہ قادیان لانے کی اجازت نہیں۔” میرا اُن کا ساتھ اس دنیا میں قریباً ۵۲ سال رہا اور وہ ۲۱ دسمبر ۱۹۴۹ء مطابق ۲۸ صفر ۱۳۶۹ھ راولپنڈی میں قریباً ۶۶ سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔۲۲ دسمبر کو جنازہ ربوہ میں لایا گیا اور اگلے روز نماز جمعہ کے بعد مقبرہ بہشتی ربوہ میں مدفون ہوئیں۔جنازہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہزار ڈیڑھ ہزار کے مجمع کے ساتھ پڑھایا۔کیونکہ بہت سے لوگ قرب جلسہ کی وجہ سے نماز جمعہ میں شامل ہونے کی غرض سے دو تین روز پہلے ہی آگئے تھے۔حضور نے جنازہ کو کندھا دیا اور فرمایا کہ میں قبرستان تک جاتا۔مگر میں اس وقت ایک بڑی ضروری کتاب لکھ رہا ہوں۔ہم دونوں میاں بیوی دست بدعا رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی جگہ موت دے کہ جنازہ مرکز میں پہنچ جائے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ جنازہ پڑھا ئیں اور ہم بہشتی مقبرہ میں دفن ہوں۔مرحومہ کی مرض الموت میں اس دعا کی طرف زیادہ توجہ ہوگئی۔چنانچہ مرحومہ کے حق میں تو یہ دعا خدا کے فضل سے منظور ہوگئی۔اور ایسی صورت میں منظور ہوئی کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے قبولیت دعا کا خاص نشان ظاہر ہوتا ہے۔مرحومہ ۲۱ دسمبر کو راولپنڈی میں دن کے ایک بجے فوت ہوئیں۔تابوت وغیرہ بمشکل رات کے آٹھ بجے تک تیار ہوسکا۔اس لئے جنازہ کو ربوہ لانے کے لئے رات بھر انتظار کرنا پڑا۔۲۲ دسمبر کی صبح کو پونے آٹھ بجے راولپنڈی سے تابوت لے کر روانہ ہوئے۔اور شام پونے چھ بجے ربوہ پہنچے۔روانگی سے قبل میں دفتر بہشتی مقبرہ کو فوری تار دے آیا تھا کہ ہم