اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 215 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 215

۲۱۵ ذات میں وہ جو ہر نہیں تھے۔جو خلافت کے لئے ضروری ہیں۔مگر آخر نتیجہ تو یہی نکلا۔کہ نہ صحابہ کی کثرت تھی اور نہ انہوں نے اس کو دینی پیشوا مانا۔اب ہم اپنے سلسلہ کی طرف توجہ کرتے ہیں تو ہمیں کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جس طرح آیت وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کے ماتحت احمد کو محمد سے مناسبت ہے۔اسی طرح احمد کے خلفاء کو محمد کے خلفاء سے مناسبت نہ ہو اور اگر خلیفہ اول حضرت آدم۔حضرت داؤد اور حضرت ابوبکر علیہم السلام کی مانند خدا کی طرف سے خلیفہ تھے تو خلیفہ ثانی حضرت عمر کا مثیل کیوں نہ ہو افسوس ہے کہ منکرین خلافت نے اس راز کو نہیں سمجھا۔نیتوں کا مالک خدا ہے۔مگر بظاہر تو یہ معاملہ ایسا صاف ہے کہ اس میں شبہ کی گنجائش نہیں۔یہ سچ ہے کہ غیر مامور خلیفہ غلطی کر سکتا ہے کیونکہ جب بعض اوقات ایک مامور بھی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے تو اس کا خلیفہ اس کمزوری سے کیونکر بچ سکتا ہے۔میں یہ بھی مانتا ہوں کہ کثرت غلطی پر ہو سکتی ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ غلطی کا امکان کس طرف ہے۔سوصاف ظاہر ہے کہ مامور کے خلاف غلطی کا امکان زیادہ تر عوام الناس کی طرف سے ہے۔اور غیر ماموریت کی حالت میں قلیل گروہ کی طرف سے۔میں نے پیشتر بیان کیا ہے کہ صحابہ کا اجماع خلافت پر ہوا تھا اگر یہ اصل صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو پھر ماننا پڑے گا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کے مسئلہ پر جس امر میں صحابہ کا اجماع ہوا وہی حق ہے۔اگر تمہارا یہ ایمان ہے کہ ان کا اجماع غلطی پر ہو گیا۔یا نعوذ بااللہ انہوں نے چالا کی اور منصوبہ بازی سے خلافت قائم کی۔تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوا۔یعنی مامور جولوگوں کی درستی ایمان اور تزکیہ نفس کے لئے مبعوث ہوا تھا اس سے وہ کام سر انجام نہ ہوا۔بلکہ برعکس اس کے اسکے ہم نشین جو شب و روز اس کی تعلیم اور تربیت کے نیچے