اصحاب احمد (جلد 3) — Page 208
۲۰۸ صلح کے متمنی ہیں تو پھر میرے جواب کو چھاپ دیں۔مگر انہوں نے نہ چھاپنا تھا اور نہ چھاپا۔پہلے تو کئی طرح کے بہانوں سے ٹالتے رہے آخر کچھ عرصہ کے بعد کہہ دیا کہ وہ مضمون گم ہو گیا ہے۔اس عرصہ میں غیر مبایعین نے کوشش کی کہ جب تک اختلاف کا فیصلہ نہ ہو فریقین میں سے دو امام الصلوۃ ہوں جو باری باری جمعہ پڑھا ئیں۔جس سے غرض انکی یہ تھی کہ انکا امام بہر حال خطبہ میں کوئی نہ کوئی بات اپنے مطلب کی کہہ دیا کریگا۔جس سے جماعت میں ان کے خیالات کی تبلیغ ہو جایا کریگی۔مگر میں نے اس کی اجازت نہ دی۔اتنے میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت شملہ کی اصلاح کے لئے حضرت مولوی سرورشاہ صاحب کو بھیج دیا۔میں خود بھی کسی بزرگ کو اس غرض سے دارالامان سے بلوانا چاہتا تھا۔مگر خیال تھا کہ اس وقت لوگ بھڑ کے ہوئے ہیں ان کو زیادہ چھیڑنا اچھا نہیں۔جب ان کی مخالفت ذرا نرم ہوگی تو دیکھا جائے گا۔مگر یہ غلط تھا۔خلیفہ وقت نے جو اسی وقت عالم مختلف مقامات پر جماعت کی اصلاح کے لئے بھیج دیئے وہی تجویز درست تھی۔کیونکہ جو لوگ اسی وقت سنبھل گئے۔سنبھل گئے۔اور جو لوگ رہ گئے وہ الا ما شاء اللہ سب ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے۔میں نے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو ان دوستوں کے پاس بلوایا جو مبایعین سے اختلاف رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی کوشش سے خدا کے فضل سے تھوڑے ہی عرصہ میں مولوی عمر الدین صاحب اور دیگر کئی دوست راہِ راست پر آگئے اور انہوں نے بیعت کر لی۔اور جن کے لئے ازل سے ہی یہ سعادت مقدر نہ تھی وہ نہ مانے۔اس کے بعد مولوی عمر الدین صاحب مبایعین کی طرف سے نبوت اور کفر و اسلام کے متعلق بحث مباحثہ کرتے رہے اور ایک مباحثہ انہوں نے غیر مبایعین کے ساتھ کیا۔یہ مباحثہ بہت دیر تک جاری رہا آخر ثالث صاحب نے نبوت کے متعلق فیصلہ صریح طور پر ہمارے حق میں کیا۔چنانچہ یہ فیصلہ قول فیصل کے نام سے چھپوا دیا۔مگر مسئلہ کفر کے متعلق وہ قدرے غیر مبایعین سے رعایت کر گئے۔حالانکہ صاف ظاہر تھا کہ کفر نبوت سے انکارکا نتیجہ ہے۔