اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 202 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 202

پیغام صلح اور الفضل کا اجراء انہی ایام میں اخبار پیغام صلح جاری ہو چکا تھا۔اور جماعت شملہ کے بعض لوگوں نے بھی پانچ پانچ روپے کے کئی حصے کئے تھے۔چنانچہ ایک دوست کے متعلق مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے بھی کچھ حصے لئے تھے اور میری معرفت ان کی رقم ادا کرنا چاہی۔مگر میں نے وہ حصے ان کے چندہ میں محسوب کر لئے اور کہا کہ چندہ فرض ہے۔جب تک فرض ادا نہ کرو اور جگہ خرچ نہیں کر سکتے اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے حضرت خلیفہ اول کے مشورہ سے اخبار الفضل جاری کیا۔مگر اس کی خریداری کی طرف دوستوں کو بہت کم توجہ ہوئی۔انہی دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب شملہ تشریف لائے اور میں نے ایک جلسہ آپ کی کوٹھی پر بلوایا اور اس میں دیگر امور کے علاوہ الفضل کے مسئلہ کو پھر ان کے سامنے جماعت میں پیش کیا۔اور بزور کہا کہ اگر پیغام صلح کے مقام میں الفضل کو سمجھا جاتا ہے تو اس کو بھی ضرور خریدنا چاہیئے تا کہ ہمیں پوری حقیقت معلوم ہو جائے۔چنانچہ اس موقعہ پر کچھ میری تحریک پر اور کچھ حضرت میاں صاحب کے ادب اور لحاظ کی خاطر بعض دوستوں نے خریداری منظور کی۔خواجہ صاحب اور ان کے رفقاء کا رویہ انہی دنوں میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت میاں صاحب گرمیوں کے دنوں میں شملہ تشریف لائے ہوئے تھے اور بعض دوستوں کے ہمراہ سیر کر رہے تھے میں آپ کے آگے آگے تھا۔چنانچہ میں نے دریافت کیا کہ حضرت یہ کیا بات ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے رفقاء آپ سے ناراض کیوں ہیں۔آپ نے فرمایا یہ ان کی غلطی ہے۔خدا جانے ان کو کیا غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ وہ میرے ساتھ ایک حقارت کا سلوک رکھتے ہیں۔اور سلام کا جواب بے رغبتی سے دیتے ہیں۔ایک سوال میں نے غالباً اسی موقعہ پر یہ کیا کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد آپ کے خیال میں کون خلافت کے لئے زیادہ موزوں ہے۔آپ نے فرمایا کہ خلیفے کی زندگی میں