اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 192 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 192

۱۹۲ (۷): میں نے محفل میں حضرت مسیح موعو علیہ السلام کو دیکھا کہ حضور کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوتی تھیں۔اور قریباً بند معلوم ہوتی تھیں۔مگر جب کسی وقت حضور میری طرف اٹھا کر دیکھتے تھے تو میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اور اپنی نظر نیچی کر لیتا تھا۔(۸): حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو دل میں خیال آتا کہ آپ کی طرف اچھی طرح ٹکٹکی لگا کر دیکھوں۔چنانچہ کئی دفعہ نظر اٹھائی۔مگر ٹکٹکی لگا کر نہ دیکھ سکا جو نبی میں آپ کے چہرہ کی طرف دیکھتا۔یوں محسوس ہوتا کہ حضور میرے دل کو دیکھ رہے ہیں۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے دل کے گناہ حضوڑ پر ظاہر ہوں۔اس لئے میں فوراً آنکھیں نیچی کر لیتا۔(۹): ایک دفعہ جب میں قادیان آیا ہوا تھا تو ایک دن صبح کے وقت مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے ہیں میں بھاگا تا آپ سے سیر کے دوران مل جاؤں۔جب میں آپ سے ملا تو آپ اس وقت واپس تشریف لارہے تھے۔لیکن میں نے دیکھا کہ حضور اتنا تیز چلتے تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے ساتھ نہیں مل سکتے تھے۔مولوی صاحب دوسروں کو تو کہتے کہ حضرت صاحب کے ساتھ ساتھ چلو لیکن خود پیچھے رہ جاتے۔میں نے دیکھا کہ حضور نہایت اطمینان سے اور بظاہر نہایت معمولی چال سے چل رہے تھے۔لیکن دراصل کافی تیز تھے۔اکثر لوگ آپ کے ساتھ تیزی سے جارہے تھے۔اور کوشش کر کے ساتھ دے رہے تھے۔اور بعض بچے ساتھ شامل ہونے کے لئے بھاگے جا رہے تھے۔کوئی حضور کے عصا سے چمٹا ہوا تھا۔کوئی آپ کے دامن کو تھامے ہوئے تھا۔کوئی آپ کے کپڑوں کے ساتھ مس کر رہا تھا۔گردو غبار بھی بہت اڑ رہا تھا۔مگر حضور کو ان باتوں کی مطلق خبر نہ تھی۔اور نہ شکایت تھی نہ شکوہ۔بلکہ بڑے اطمینان کے ساتھ جارہے تھے۔اس طرح آپ اکثر سیر کے لئے تشریف لے جاتے اور احباب آپ کے ساتھ ہو جاتے تھے۔(۱۰): ایک دفعہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے کا موقعہ ملا جمعہ کی نماز غالباً حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسبح اول نے پڑھائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبر کے قریب بیٹھ گئے۔میں بھی موقعہ غنیمت سمجھتے