اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 179 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 179

۱۷۹ ہیں۔جن میں آپ کا نام بھی لیا اور فرمایا تھوڑے سے عرصہ میں انہیں اتنا کام کرنا پڑا ہے کہ جتنا انہوں نے ساری عمر نہ کیا تھا۔آپ عادات میں سادہ، نرم خو سنجیدہ طبع ، باوقار محنتی ، مدبر اور مخلص تھے۔آر نے ۷ اگست ۱۹۵۸ء بوقت گیارہ بجے صبح راولپنڈی میں وفات پائی۔جنازہ راولپنڈی سے بذریعہ ٹرک ربوہ لایا جا رہا تھا لیکن سیلاب کے باعث خوشاب سے آگے نہ آسکا۔اس لئے خوشاب میں امانتاً دفن کئے گئے اور بعد میں ۱۸ اپریل ۱۹۵۹ء کو آپ مقبرہ بہشتی قطعہ خاص ربوہ میں دفن ہوئے۔رضی اللہ عنھم اجمعین۔مختصر حالات زندگی آپ کی ولادت ۱۸۷۲ء میں بستی شیخ ضلع جالندھر میں ہوئی۔آپ کے والد بزرگوار میاں محمد فاضل صاحب آپ کی طفولیت ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔آپ قدرے بڑی عمر میں یعنی آٹھویں سال میں ایک دیہاتی سکول میں تعلیم پانے لگے۔طبیعت ذہین پائی تھی۔انسپکٹر مدارس غالباً سردار دلیپ سنگھ نے اپنے دورہ میں پرائمری کی تیسری جماعت کا امتحان لیا تو آپ کی پڑھائی انہیں پسند آئی اور انہوں نے کتاب رسومِ ہند آپ کو انعام دی۔پانچویں پرائمری میں جماعت کا مانیٹر ہونے کی وجہ سے آپ کو مانیٹری یعنی بوجہ مانیٹر ہونے کے نصف روپیہ ماہوار ملتا رہا۔پانچویں جماعت میں آپ غالبا ضلع بھر میں اول رہے۔تو دورو پیہ ماہوار وظیفہ ملنے لگا چونکہ اس دیہاتی سکول میں انگریزی کی تعلیم کا انتظام نہیں تھا۔سو آپ مڈل کلاس میں جالندھر کے ایک سرکاری مدرسہ میں داخل ہوئے اور انگریزی کی کمی پورا کرنے کے لئے ایک سال پیش کلاس میں صرف ہوا۔گویا تیسرے سال ۱۸۸۹ء یا ۱۸۹۰ء میں آپ نے مڈل کا امتحان دیا جو اس وقت یو نیورسٹی لیتی تھی۔آپ بفضلہ تعالیٰ بہت اعلیٰ نمبر پر کامیاب ہوئے اور چار روپے وظیفہ منظور ہوا۔لیکن چونکہ پیشل کلاس میں پڑھنے سے عمر مقررہ حد سے بڑھ چکی تھی اس لئے عملاً وظیفہ نہ مل سکا۔انٹرنس تک تعلیم پا کر ۱۸۹۲ء کے آخر میں آپ نے شملہ میں محکمہ موسمیات میں ملازمت اختیار کر لی۔