اصحاب احمد (جلد 3) — Page 152
۱۵۲ صندوق تھے۔ان میں کتا بیں ہی کتابیں تھیں۔وہ جس صندوق کو کھولتا اوپر سے نیچے تک چیک کرتا کہ کتابوں کے علاوہ کوئی اور چیز اسلحہ وغیرہ تو نہیں۔جب وہ دو تین ٹرنک دیکھ چکا اور اس کو اطمینان ہو گیا تو میری طرف آیا اور جہاں میرے والے امانتوں کے چستی ٹرنک تھے۔ان کو دیکھ کر از خود ہی کہنے لگا یہ بھی ریسرچ کا ہی سامان ہے اور اس نے قافلہ کو جانے کی اجازت دے دی۔بسیں روانہ ہوئیں۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔کیونکہ میرے ساتھ جو امانت کے ٹرنک جارہے تھے اُن میں لاکھوں روپے کی ڈبیاں اور پارسل تھے۔کسی کے زرو جواہر کسی کے زیور کسی میں پونڈ وغیرہ وغیرہ۔واللہ اعلم کیا کچھ نہ تھا۔اور اگر اس افسر کو شبہ بھی ہو جاتا کہ ٹرنکوں میں لاکھوں کا مال ہے تو وہ ضرور روک لیتا اور ٹرنک کھلواتا اور اندر سے ہر ایک ڈبہ کھولتا۔تو خدا جانے وہ لالچ میں آکر کہتا کہ ہم جانے نہیں دیں گے۔بھارت سرکا رکور پورٹ ہوگی۔اگر سرکار نے اجازت دی تو یہ مال جائے گا۔ورنہ نہیں۔یہ ایسی مصیبت تھی جس کے تصور سے ہی میری جان پر بن جاتی تھی۔کہ کسی کو میری بات کا یقین کیسے آئے گا کہ یہ مال فلاں نے لے لیا ہے۔نہ مجھے کوئی رسید دی جائے گی نہ کوئی اور صورت اطمینان کی ہوگی۔مگر میں اپنے خدا پر قربان جاؤں کہ حضرت خلیفہ امسیح کی توجہ سے یہ مشکل یوں حل ہوئی کہ فوجی افسر نے بغیر دیکھے ہی یہ سمجھ لیا کہ یہ ریسرچ کا سامان ہے۔اور چونکہ وہ ریسرچ کے ٹرنک دیکھ کر اطمینان کر چکا تھا کہ ان میں کتابیں ہیں اور کچھ نہیں اس لئے اس نے یہی گمان کیا کہ ان میں بھی کتا بیں ہیں۔یہ کس قسم کا زمانہ تھا۔اور کیسی مصیبت کا وقت تھا۔جن لوگوں نے وہ مصیبت نہیں دیکھی وہ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے اور میں نے چونکہ یہ نظارے دیکھے تھے۔اس لئے میرے دل پر یہی اثر ہے کہ یہ محض خدا کا رحم اور فضل تھا۔جو حضرت خلیفہ ثانی کی توجہ اور دعاؤں سے مجھ پر ہوا۔کیونکہ حضور چاہتے تھے کہ امانتیں