اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 12 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 12

آپ کو ریلوے سٹیشن پر الوداع کہنے آئیں۔اور ایک دوسرے سے کہتی تھیں کہ یہ لڑکا پردیس جا رہا ہے آؤ الوداع کہہ آئیں۔ڈیڑھ ماہ کی تعطیلات میں آپ نے کتابوں کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔پہلے پرچہ سے ایک روز قبل آپ کو اس قدر شدید تپ چڑھا کہ سپروائزر آپ کے والد صاحب کو اطلاع بھیجنے والا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالت بہتر ہو گئی۔گو پہلا پرچہ آپ نے نیم بخار کی حالت میں ہی حل کیا۔ان حالات میں بھی آپ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئے اور آٹھ روپے ماہوار وظیفہ یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو حاصل ہوا۔یہ ۱۸۹۹ء کی بات ہے۔مدرسہ کے آزمائشی امتحان میں آپ کلاس میں اول آئے تھے۔اور دوم سے اسی ۸۰ نمبر زیادہ پائے تھے۔وکلاء اور اساتذہ نے لوگوں سے روپیہ جمع کر کے آپ کو اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے دیا۔ماسٹر مرلیدھر صاحب نے روسا سے چندہ جمع کرنے میں اس بناء پر خاص کوشش کی تھی کہ آپ ماسٹر صاحب کے مضامین ریاضی۔الجبرا اور اقلیدس میں اتنے ہوشیار تھے کہ ڈیڑھ صد میں سے ڈیڑھ صد نمبر ہی لیتے تھے کبھی ایک نمبر بھی کم نہ لیا تھا۔اب یورنیورسٹی کی طرف سے آپ کو آٹھ روپے جو بلی سکالرشپ حاصل ہوا۔لیکن حضرت منشی عبد الغنی صاحب او جلوی کا خط ملنے پر اہلبیت کی کشش غالب آئی اور آپ کا لج کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر گھر واپس چلے گئے۔مسلمانوں کی مذہبی حالت اور آپ کا دینی جذبہ بچپن سے جوانی تک آپ کی تربیت جس رنگ میں ہوئی اس کی تفصیل میں آپ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت پنجاب اور بقیہ ہندوستان میں مسلمان دھڑا دھڑ عیسائی بلکہ آریہ بن رہے تھے۔عام ماحول اسلامی رنگ نہ رکھتا تھا۔آپ کے جدی گاؤں کے تمام افراد نا خواندہ تھے۔اس گاؤں کے سمیت اردگرد کے دیہات کی اکثریت ہندو آبادی پر مشتمل تھی۔کئی دیہات کا ایک مشترک مولوی ہوتا۔نکاح خوانی اور جنازہ خوانی اور دو تین دیہات کو عیدین پڑھانا۔اور بچہ کی ولادت پر اس کے کان میں اذان کہنا ہی صرف اس کا فرض منصبی ہوتا تھا۔نکاح میں خطبہ پڑھنا اور اعتکاف یا سارا سال بالالتزام نمازیں ادا کرنا