اصحاب احمد (جلد 3) — Page 127
۱۲۷ کی پسندیدگی پر ہی یہ معاملہ رکھوں گا۔کیونکہ میں نے پہلی شادی اپنی خواہش سے کی تھی۔مگر اس کا نتیجہ جو کچھ نکلا وہ ظاہر ہے۔حضور نے پھر فرمایا کیا آپ کو یہ رشتہ پسند ہے۔پھر بھی میں نے منظوری کا معاملہ حضرت پر ہی رکھا۔تو حضور نے فرمایا کہ جب میرے پہلے نکاح کا وقت آیا تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلا کر پوچھا کہ محمود کیا تمہیں فلاں جگہ رشتہ ( یعنی حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ کا پسند ہے۔میں نے خاموشی اختیار کی حضور نے دوبارہ فرمایا تو پھر بھی میں نے شرم سے خاموشی اختیار کی۔تیسری بار حضور نے فرمایا محمود تمہارا نکاح ہونا ہے۔بولو تمہیں وہ جگہ پسند ہے۔(یہ مفہوم تھا) میں بھی اُسی طرح آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو یہ رشتہ پسند ہے کیونکہ آپ کا نکاح ہوتا ہے۔اس پر میں نے عرض کیا پسند تو حضور ہی کی ہوگی۔البتہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔غرض یہ تجویز ہو کر غالباً ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۲ء کو بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں درس قرآن سے پہلے نکاح کا اعلان کیا اور دعا فرمائی۔ان کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے ۲۰ دسمبر ۱۹۲۳ء کو پہلی اولا د عزیزہ صادقہ سلمها عطا کی۔یہ در حقیقت حضرت امیر المومنین کی دعا کا نتیجہ تھا۔میں نے کہا۔للہ الحمد ہر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد زپس پردہ تقدیر پدید! ۱۹۲۵ء میں کوہ مری میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل واحسان سے عزیزم محمد احمد سلمہ پہلے بیٹے کی ولادت کی خوشی دکھائی۔حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر جب حج پر تشریف لے گئے۔تو جدہ کے قریب کشف میں انہوں نے دیکھا کہ میری گود میں ایک لڑکا ہے۔اور ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی ہے۔عزیز کی ولادت سے یہ کشف محمد اللہ پورا ہو گیا ہے۔۱۹۱۴ء تا ۱۹۳۳ء ملازمت اور سرگرم تبلیغ احمدیت آپ رقم فرماتے ہیں: اعلان نکاح کا ذکر الفضل سے نہیں ملا۔لیکن یہ اندراج مہمانوں کی آمد میں موجود ہے کہ ہفتہ اا تا ۱۷ اکتوبر میں آپ اور آپ کے خسر محترم دونوں قادیان آئے تھے۔غالباً اسی شادی کے موقعہ پر حضرت حافظ روشن علی صاحب مع مبلغین طلبا، پٹیالہ تشریف لے گئے تھے۔