اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 126 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 126

خدمت میں لکھے تھے ان میں سے ذیل کا ایک جواب مجھے ملا ہے : مکرمی۔السلام علیکم۔آپ کی طرف سے ۱۰۰ روپیہ پہنچ گیا تھا۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔آپ کی اہلیہ کی طرف سے بھی دس روپے پہنچ گئے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء چونکہ اس وقت روپیہ کی خاص ضرورت تھی۔اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنے پر وہ روپیہ آیا تھا۔اس لئے خاص طور پر دعا کی گئی۔" آپ کے نکاح ثانی کے متعلق دعا کروں گا۔استخارہ کر لیں تو اطلاع آنے پر اگر ممکن ہو ا تو کوئی جگہ بھی بتلا سکوں گا۔“ خاکسار مرزا محمود احمد ۴/۱۱/۱۹۲۰ اس گرامی نامہ کے آنے پر میں نے استخارہ شروع کر دیا اور قریباً ڈیڑھ پونے دو سال تک کرتا رہا۔اور حضور کی خدمت میں گاہے گاہے عریضے بھی روانہ کرتا رہا۔جولائی ۱۹۲۲ء میں حضور نے سری نگر سے تحریر فرمایا کہ دو خیمے بھجواؤں۔میں نے تعمیل ارشاد کی۔وقت گذرتا گیا۔اور میرا دل نکاح ثانی کی طرف زیادہ مائل ہوتا چلا گیا۔آہستہ آہستہ یہ معامله اکتوبر ۱۹۲۲ء تک پہنچ گیا۔اور میں انتظار کرتے کرتے تھک کر قادیان آگیا۔ان ایام میں حضور مسجد مبارک کے نیچے گول کمرہ میں دفتری کام سرانجام دیتے تھے۔جناب مولوی عبد الرحیم صاحب درڈ پرائیویٹ سیکرٹری سے میں نے عرض کیا کہ آپ حضرت کے حضور عرض کریں کہ مجھے باریابی کا موقعہ بخشیں۔انہوں نے کہا حضور سخت مصروف ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہم نے راولپنڈی کے پتہ پر خط لکھ دیا ہے۔وہاں جا کر پڑھ لیں۔میں نے عرض کیا آپ مجھے خط کے مضمون سے مطلع فرمائیں۔اور زیادہ نہیں تو چند منٹ حاضر ہونے کی اجازت بخشیں۔چنانچہ ملاقات میں ہنس کر فرمایا کہ میں نے آپ کی خواب کی وجہ سے پہلی تجویز کو چھوڑ دیا ہے۔( یہ تجویز ایک خاتون سے متعلق تھی۔جو کسی اور شخص سے شادی ہو کر چھ ماہ کے اندر فوت ہوگئی) نیز فرمایا۔ابھی کوئی اور جگہ میرے علم میں نہیں اور محترم درد صاحب سے فرمایا کہ مولوی سراج الحق صاحب پٹیالوی نے اپنی لڑکی محمدی بیگم کے متعلق لکھا تھا۔کیا اس کا رشتہ کہیں ہو گیا ہے۔پھر فرمایا کیا آپ کو یہ رشتہ منظور ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں محض حضور