اصحاب احمد (جلد 3) — Page 107
1+2 دن یہاں سے چلے جائیں گے۔اور باہر جا کر ہماری نسبت جو کچھ کہیں گے لوگ اس پر یقین کرلیں گے۔اور اس طرح ہماری عزت پر حرف آئے گا اگر آپ نے ہمیں بُرا بنایا۔پھر پنڈت کی طرف غصہ سے دیکھ کر ایک خاص قسم کی گالی نکال کر جس کی عادت تھی کہا کہ یہ نہیں جانتا کہ آپ ہم سے ڈرنے والے نہیں۔اگر آپ ڈرنے والے ہوتے تو پہلے اجازت مانگتے پھر نماز پڑھتے مگر آپ نے تو خدا کی نماز پڑھنی تھی اس لئے آپ کو خدا کا ڈر تھا ہمارا نہ تھا۔پھر فرمایا کہ جھیل ڈل کا کنارہ آ گیا تو مہاراجہ کشتی سے اترا اور پنڈت کی جان چھوٹی (مفہوم) (۲۵) علم قرآن عطا ہوتا ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے قرآن کریم کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا روم ( یعنی مولانا جلال الدین رومی) کو قرآن کریم کے سات بطن سمجھائے تھے۔مگر میں تحدیث بالعمہ کے طور پر کہتا ہوں کہ میرے مولا نے مجھے بڑا آدمی بلکہ بہت بڑا آدمی بنایا ہے۔اور مجھے قرآن کریم کا بڑا علم عطا کیا ہے۔(مفہوم) مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان سے بڑھ کر مجھے علم قرآن عطا کیا ہے۔(۲۶) غلاموں میں مثیل سلیمان ہونا ایک موقعہ پر حضرت حکیم محمد عمر صاحب نے بعض سوالات کئے۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ قرآن کریم میں حضرت سلیمان کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں حضرت سلیمان جیسے آنے والے تھے؟ اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو بڑی شان ہے۔نورالدین کے غلاموں میں سے ایسے ایسے سلیمان پیدا ہوں گے جو حضرت سلیمان سے شان میں کئی درجہ بڑھ کر ہوں گے۔(مفہوم) (۲۷) اللہ تعالیٰ سے مستقل و مسلسل تعلق ہونا ایک روز آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے کسی بات پر فرمایا کہ اولیاء اللہ عام طور پر خلوت کو پسند کرتے ہیں۔تم اپنے مرزا ہی کو دیکھ لو۔کہ وہ کس طرح خلوت پسند