اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 102 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 102

۱۰۲ کر رہے تھے۔اور پیسے مانگے۔آپ خاموش رہے۔پاس ہی ایک زمیندار بھائی بیٹھے تھے وہ اپنے پاس سے کچھ دینے لگے۔آپ نے انہیں منع فرمایا۔انہوں نے اصرار کیا تو فرمایا کہ اس طرح بچوں کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے والد کے پاس جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ ہمیں کچھ نہ کچھ دیں گے۔تھوڑی دیر تک آپ نے اپنے بچے کو کچھ نہ دیا اور وہ خاموش کھڑے رہے۔اس وقت ان کی عمر غالباً تین چار سال ہوگی۔مگر تھوڑی دیر میں ایک یتیم بچہ آیا اور اس نے شاید رضائی بنوانے کے لئے پندرہ ہیں روپے کا مطالبہ کیا جو آپ نے فوراً پورا کر دیا۔ایک دن میں آپ کی خدمت میں حاضر تھا۔وہاں ایک نوجوان لڑکا جو زمیندار معلوم ہوتا تھا۔اور بہت غریب تھا بیٹھا تھا۔اتنے میں ہمارے بعض احمدی بھائی جن میں ایک ذیلدار اور کچھ معزز زمیندار تھے آئے۔اور تھوڑی دیر بعد اس غریب لڑکے کے متعلق سفارش کے طور پر عرض کیا کہ یہ واقعی غریب ہے۔حضور خاموش رہے۔جب ان افراد نے دوبارہ یہی بات کہی تو آپ نے حضرت حکیم صوفی غلام محمد صاحب امرتسری کو ارشاد فرمایا کہ وہ بتلائیں کہ ہم اس نوجوان کے لئے کیا کر رہے ہیں۔صوفی صاحب نے بتایا کہ آپ نے اس کے لئے پہلے فلاں اٹھارہ یا بیس روپے کی دوائی لاہور سے منگوائی جو موافق نہ آئی۔پھر آپ نے فلاں دوائی منگوائی جس پر اتنے روپے خرچ ہوئے۔پھر اس کے لئے پر ہیزی کھانے کا انتظام کیا ہوا ہے۔اور اسے علیحدہ مکان دیا ہوا ہے اور اس پر بہت سا خرچ اب تک کیا ہے۔حضور نے ان زمیندار بھائیوں سے کہا کہ اگر ہمیں الہی خوف یا فرمایا الہی محبت نہ ہوتی تو کس طرح ہم اتنا خرچ اس پر کرتے۔یہ بیچارہ تو بالکل نادار ہے۔تمام حاضرین حضور کی فیاضی پر متعجب ہوئے۔(۲۰) جانوروں سے حسنِ سلوک جانوروں سے حسنِ سلوک کا آپ کو ہمیشہ خیال رہتا تھا۔آپ کے سامنے کوئی بھینس لے کر آیا۔اس نے گوبر کر دی۔لوگوں نے بُرا مانا اور تھوکنے لگے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ تمہارے پاخانہ سے تو زیادہ بد بودار نہیں۔