اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 101 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 101

1+1 کہ پہلے تو اس نے میرا خم توڑ دیا اور میرا سر کہ جو اس میں تھا گرا دیا۔مگر میں نے کوئی گلہ نہ کیا۔کہ کیوں میرا نقصان کر دیا۔اس کے بعد یک صد خم عمدہ سر کہ کے مجھے صبر کے بدلہ میں دیئے اور مجھے خوش کر دیا (مفہوم) اس سے حضور نے سمجھایا کہ صبر کرنے والوں کو صبر سے بڑا انعام ملتا ہے۔(۱۷) ایک دفعہ میں حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے اپنی پریشانی حال کا ذکر کیا۔اس وقت اکبر شاہ خاں صاحب بھی حضور کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔حضور نے ان سے کہا کہ ان کو اس شعر کے معنی و مطلب سمجھائیں۔سرنوشت ما بدست خود نوشت خوش نویس است و نخواهد بد نوشت اکبر شاہ خاں صاحب نہ سمجھا سکتے تھے۔حضور کے سامنے کچھ بیان کرنا کارے دارد تھا۔اس لئے حضور نے بیان فرمایا کہ جو خوش نویس ہوتا ہے وہ معمولی سی قلم سے بھی کچھ لکھے تو دوسروں کی نسبت اچھا لکھ لیتا ہے۔بُرا لکھ ہی نہیں سکتا۔جو کچھ بھی لکھے گا اچھا ہی ہو گا۔(مفہوم) اور اس طرح سائل کو تسلی دلائی۔(۱۸) کام کو عار نہ سمجھنا مسجد اقصیٰ کی توسیع خلافت اولی میں ہوئی تو اس موقعہ پر میں بھی قادیان میں تھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول خود نیچے اترے اور ٹوکری مٹی کی بھری ہوئی اٹھانے لگے۔احمدی احباب نے جلدی ہی وہ جگہ صاف کر دی۔مٹی باہر نکلوائی گئی۔اور تعمیر کا کام شروع ہوا۔(۱۹) یتیم پروری و غریب پروری ایک روز میاں عبدالوہاب صاحب حضرت کے پاس آئے۔آپ کوئی کتاب مطالعہ