اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 33 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 33

33 مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب چھوٹے نہیں ہو سکتے تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی۔۳۵ حضرت مسیح موعود سے خط و کتابت کیونکر شروع ہوئی اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں کہ : ” مجھے پہلا موٹا اشتہار بابت براہین احمدیہ ۱۸۸۵ء میں نظر سے گذرا مگر کوئی التفات نہ ہوا۔۸۸-۱۸۸۷ء میں حضرت کا شہرہ سنتا رہا۔۱۸۹۰ء میں اپنے استاد مولوی عبد اللہ فخری کی تحریک پر استدعاء دعا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی۔اس طرح خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔اس میں نواب صاحب ابتدائے خط و کتابت ۱۸۹۰ء بیان کرتے ہیں۔مگر یہ صحیح نہیں اس لئے کہ حضور کا پہلا مکتوب آپ کے نام ۷ اگست ۱۸۸۹ء کا ہے جو نواب صاحب کے مکتوب کا جواب ہے اس لئے آپ کی بقیہ حاشیہ: - اس وقت یہ طوفان برپا ہو چکا تھا سولا ز ما حضور لدھیانہ کا سفر کر آئے تھے۔چنانچہ اس مکتوب میں حضور تحریر فرماتے ہیں: آل مخدوم کا خط بعد وا پسی از امرتسر مجھ کو ملا۔آں مخدوم کچھ تفکر اور تر ڈونہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفتوں کا حکمت سے خالی نہیں۔بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا۔اگر لوگ خدا کے بندوں کو کہ جو اس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یوں ہی اُن کی شکل ہی دیکھ کر قبول کر لیتے تو بہت عجائبات تھے کہ ان کا ہر گز دُنیا میں ظہور نہ ہوتا۔(الف) یہ عبارت قدرے بتغیر الفاظ الفضل مورخہ ۳۸-۶-۱۴ چھپ چکی ہے۔یہاں نواب صاحب کے اصل الفاظ درج کئے گئے ہیں (ب ) اار جولائی ۱۸۸۳ء کے مکتوب بنام میر عباس علی صاحب لد ہیا نوی میں حضرت اقدس کی طرف سے جو نواب محمد علی خاں صاحب کا ذکر ہے وہ دراصل نواب علی محمد خاں صاحب آف جھجر کا ہے۔