اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 32 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 32

32 اس سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔چنانچہ ازالہ اوہام حصہ دوم میں آپ کا بیان مرقوم ہے کہ: ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں بلکہ مخالفانِ اسلام کے بقیہ حاشیہ: دوسرا سبب یہ کہ انہوں نے باستعانت بعض معزز اہل اسلام لد ہیانہ (جن کی نیک نیتی اور خیر خواہی ملک وسلطنت میں کوئی شک نہیں ) بمقابلہ مدرسہ صنعت کاری انجمن رفاہ عام لدھیانہ ایک مدرسہ قائم کرنا چاہا تھا اور اس مدرسہ کیلئے لوہیانہ میں چندہ جمع ہو رہا تھا کہ انہی دنوں مؤلف براہین احمدیہ باستد عا اہل اسلام لدھیانہ میں پہنچ گئے اور وہاں کے مسلمان ان کے فیض زیارت اور ان کے شرف صحبت سے مشرف ہوئے ان کی برکات واثر صحبت کو دیکھ کر اکثر چندہ والے ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس چندہ کے بہت سے رو پی طبع واشاعت براہین احمدیہ کے لئے مؤلف کی خدمت میں پیشکش کئے گئے اور مولوی صاحبان مذکور تهیدست ہوکر ہاتھ ملتے رہ گئے اس امر نے بھی ان حضرات کو بھڑ کا یا اور مولف کی تکفیر پر آمادہ کیا جن کو ان باتوں کے صدق میں شک ہو وہ ہم کو اس امر سے مطلع کرے ہم لدھیانہ سے عمدہ اور واضح طور پر ان باتوں کی تصدیق کریں گے۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ حضور کا لد ہیا نہ کا سفران مخالف مولویوں کو مخالفت پر آمادہ کرنے کا باعث ہوا اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان مولویوں کی طرف سے کب مخالفت میں شدت اختیار کی گئی تو یہی امر اس عرصہ کی تعیین کا موجب ہوگا کہ جس میں حضرت اقدس اس سفر پر تشریف لے گئے تھے۔حضور میر صاحب کو ۱۳ / فروری ۸۴ء کو تحریر فرماتے ہیں: اور یہ عاجز دو دن کے رفع انتظار کی غرض سے یہ خط لکھا گیا۔اور اب میں تو گلا على الله امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔“ معلوم ہوتا ہے حضور نے کسی مکتوب کے ذریعہ جو اب محفوظ نہیں یا کسی زبانی پیغام کے ذریعہ میر صاحب کو اطلاع دی کہ حضور لدھیانہ آئیں گے ورنہ کسی امر کے انتظار کا علم مکتوبات سے نہیں ہوتا۔دودن حضور نہ جا سکے تو اس کا ذکر اس مکتوب میں کیا اور یہ بھی لکھا کہ اب حضور امرتسر جا رہے ہیں اور ۲۱ فروری ۸۴ ء تک براہین حصّہ چہارم طبع ہو چکا تھا جو کہ گودیر سے زیر طبع تھا لیکن سفر زیر بحث تک ابھی چھپا نہیں تھا۔سو معلوم ہوا کہ حضوڑ کا سفر لدھیانہ و مالیر کوٹلہ ۱۴ اور ۲۰ فروری ۸۴ ء کے درمیان ہوا ہے اور مولویان لدہیانہ نے حضور کے سفرلد ہیا نہ کے باعث مخالفت کا جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا تھا ہمیں ۲۶ فروری ۸۴ء کے حضور کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ